نام نہاد علما کی شریعت بھی موم کی ناک کی طرح ہوتی ہے جس کو جب چاہے اپنی مرضی کے مطابق موڑا جا سکتا ہے۔ 71 سال کی عمر میں 60 سال کی زندگی ایسی ضرور رہی ہوگی جس کو پختہ و نہ پختہ شعوری عمر ضرور کہا جا سکتا ہے۔ اس دوران میں نے ایسے ہی علما کی من گھڑت شریعت کو جس تیز رفتاری سے بدلتے دیکھا ہے اس نے میرے اعتماد کو اس بری طرح تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے کہ اب اگر کسی معاملے پر ان ہی جیسے کسی عالم و مفتی کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ آ جاتا ہے تو یقین نہیں آتا کہ ان کا فرمان درست ہو گا بھی یا نہیں۔ لاؤڈ اسپیکر پر اذان جائز نہیں کو جائز اور حلال ہوتے دیکھا۔ اذان کے جائز ہونے کے بعد نمازِ جمعہ کا خطبہ ناجائز ہونے کے بعد جائز ہوتے دیکھا۔ پھر مسئلہ نماز پڑھانے کا آیا تو اس کے بعد وہ مسئلہ بھی ناجائز قرار دینے کے بعد اب اس بری طرح جائز ہو چکا ہے کہ امام کے پیچھے ایک ہی مقتدی کیوں نہ ہو، نماز لاؤڈ اسپیکر کے بغیر پڑھاتے کسی مسجد میں بھی نہیں دیکھا جاتا۔ کسی بھی خوشی کی تقریب میں کیمرے کی ایک ’’کلک‘‘ مقدس رشتوں تک کو توڑ کر رکھ دیا کرتی تھی۔ عکس بندی اس حد تک حرام تھی کہ کفر کے فتوے جاری ہو جایا کرتے تھے۔ اب عالم یہ ہے کہ کئی کئی گھنٹوں کی موویاں بنوا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے جیسے کام کو کارِ ثواب کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ خواتین کی آواز بھی پردہ سمجھی جاتی تھی اور اگر بھول چوک میں بھی آواز گھر سے باہر چلی جاتی تھی تو خواتین کی شامت آ جایا کرتی تھی۔ اب عالم یہ ہے کہ یہی مذہبی امامین ان کو سڑکوں پر نعرے بازی کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ المختصر یہ کہ تمام ہی مذہبی رہنماؤں نے شریعت کو ایک تماشا بنا کر رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کی سمجھ میں یہ بات مشکل ہی سے آتی ہے کہ ان کی بتائی ہوئی کسی بات کو عین شریعت سمجھیں یا مفادات کے حصول کا کھیل۔ یہی معاملہ ’’سادگی‘‘ کی تعریف کا ہے جس کو میں خود بھی آج تک سمجھنے سے قاصر ہوں کہ سادگی کے مفاہیم کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں جاکر وہ حد ٹوٹ کر ’’تصرف‘‘ میں داخل ہو جاتی ہے۔
بچپن میں اپنے بزگوں، اس دور کے عالموں، اس دور میں لکھی جانے والے کتابوں اور اسکول کے نصابوں میں میں نے جو تعریف سادگی کے حوالے سے پڑھی اور سنی تھی، فی زمانہ عملی طور پر اب کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ بد قسمتی سے جن کو ہم دین کا سچا پیروکار مانتے ہیں، وہ سب آج کل کہیں بھی سادگی پر درس دیتے یا گفتگو کرتے نظر نہیں آتے۔ کہا جاتا تھا کہ ہر وہ شے جو ضرورت سے زیادہ ہو اسے رکھنا، پہنا، کھانا وغیرہ ’’اصراف‘‘ میں آتا ہے۔ گنجائش سے زیادہ اشیائے ضروریہ گھر میں رکھنا تصرف ہے۔ اعلیٰ اقسام کے کپڑے اور جوتے اصراف میں آتے ہیں۔ جب ایک چھوٹے سے مکان میں زندگی گزاری جا سکتی ہے تو کیا ضروری ہے کہ محلات بنائے جائیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ تھی سادگی کی تعریف جسے سنتے اور پڑھتے، میں عمر کی آخری منزل تک آن پہنچا ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر وہی سب سنی، لکھی اور پڑھی گئی باتوں کو دہرانے بیٹھا جائے تو کاغذوں کے دفتر کے دفتر سیاہ ہوجائیں لیکن حوالہ جات پھر بھی ختم ہو کر نہ دیں۔ اب عالم یہ ہے گھروں کی الماریاں ایک سے ایک قیمتی کپڑوں کے سوٹوں سے بھری پڑی ہیں، ہر قسم اور رنگ کے جوتوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، بستروں کی چادروں سے گھر بھرا پڑا ہے۔ ایک سے ایک قیمتی و کم قیمت کراکری گھر میں موجود ہے۔ نہ تو اعلیٰ اقسام کے مکانات کی کمی ہے اور نہ ہی موٹرکاروں کی قلت۔ الغرض جو بھی شے ہے وہ ضرورت سے کئی کئی گناہ زیادہ ہے لیکن اب نہ تو مسجد کے ممبر سے سادگی کا کوئی درس دیا جاتا ہے اور نہ ہی سفید کاغذ کالے کیے جاتے ہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ حسب ِ حیثیت جتنا بھی کر لیا جائے وہ جائز ہے۔ بات غلط بھی نہیں لگتی لیکن اس کا کیا جائے کہ جو دین دریا کے کنارے پر بھی پانی کو ضرورت سے ایک قطرہ زیادہ استعمال کو تصرف میں لانا پسند نہ کرتا ہو وہ دیگر معاملاتِ زندگی میں کھلی چھوٹ کیسے دے سکتا ہے۔
اب ’’تصرف‘‘ کی تعریف بدل چکی ہے۔ اس میں جہلا و علما سب شامل ہیں، سب کے لباس، گاڑیاں، آرام دہ بچھونے اور گھر، ویسے نہیں رہے جن کی موجودگی میں وہ کسی کو سادگی کا درس دے سکیں۔ اگر سادگی سادگی کا شور مچانے والوں سے میں یہ کہوں کہ سادگی اس وقت تک سادگی کہلائی جاتی تھی یا ہم دوسروں کو سادگی کا درس اس وقت دیا کرتے تھے جب تک ہم دنیا کی نعمتوں سے محروم تھے تو بات بری ضرور لگے گی مگر یہ غلط بھی نہیں ہوگی۔ اس بات کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ جونہی وہی ساری اشیا ہماری دسترس میں آ گئیں تو ہماری نظر میں ’’تصرف‘‘ کے مفاہیم بدل گئے۔ لاؤڈ اسپیکر کا عام ہونا، ٹی وی گھر گھر ہونا، موبائل بچے بچے کی دسترس میں ہونا، آمدنیوں کی وجہ سے ہر شے کو حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہونا، کیمرے کے آگے کئی کئی گھنٹوں کی موویاں بنانے کے موقعوں کا میسر ہونا اور کئی کئی گاڑیوں کا حصول مشکل نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب سادگی و سادہ زندگی کا وہ تصور مفقود ہو چکا ہے جو درس کی کتابوں میں کبھی لکھا ہوا ہوتا تھا۔ اب عالم یہ ہے کہ
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے