اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ کوئی ایسا کیس نہیں سن سکتی جو کسی اور ماتحت عدالت یا فورم پر سنا جاسکتا ہو، ہائی کورٹ یہ نہیں کہہ سکتی کہ آجائو، آجائو ہم ہر معاملہ دیکھ لیتے ہیں۔
چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بین نے کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے ایم ایس ڈی جی خان سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو بوساطت چیف ایگزیکٹو آفیسر یا مجاز افسر وغیرہ اور ایم ایس نیشنل فلور اینڈ جنرل ملز لمیٹڈ کو بوساطت پرنسپل آفیسر/انچارج/چیف ایگزیکٹویاڈائریکٹر لاہور وغیرہ کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔
دوران سماعت ان لینڈ ریونیو کی جانب سے میاں یوسف عمر بطوروکیل پیش ہوئے جبکہ مدعاعلیحان کی جانب سے شہریار قصوری بطور وکیل پیش ہوئے۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔
دوران سماعت مدعا علیحان کے وکیل شہریارقصوری کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کے موئکل کی فیکٹری سے انکم ٹیکس ایکٹ 1990کے سیکشن38کے تحت جولائی 2014سے جون2015تک کا ریکارڈ مانگا گیا تھا جو کہ غیر قانونی تھا، سیکشن38کے تحت ریکارڈ نہیں مانگاجاسکتا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ ڈیپارٹمنٹ اور مدعا علیحان کے وکیل مل کر معاملہ کو حل کرلیں۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ نوٹس سیکشن انکم ٹیکس ایکٹ 1990کے سیکشن25کے تحت جاری کیا جانا چاہئے تھا۔