کراچی مجرموں کا گڑھ بن گیا، جرائم کی شرح میں غیر معمولی اضافہ

632
snatched

کراچی: شہر قائد مجرموں کا گڑھ بن گیا۔ ڈاکو دیدہ دلیری  کے ساتھ شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں جب کہ اسٹریٹ کرائم کے دوران مزاحمت پر قتل کرنا ڈاکوؤں کے لیے کھیل بن چکا ہے۔

صوبائی محکمہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ بھر میں ہونے والے جرائم میں سے 67.5 فی صد صرف صوبائی دارالحکومت کراچی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔  گزشتہ 6 برس کے دوران شہر قائد میں گاڑیاں چوری ہونے اور چھینے جانے کے واقعات کی تعداد 3 ہزار 858 سے بڑھ کر 30 ہزار 580 کی سطح پر آ گئی۔

رپورٹ 2022ء کے مطابق گزشتہ 2 برس میں سندھ میں جرائم کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ ہوا۔ 2020ء میں صوبے بھر میں جرائم کی کل تعداد 99 ہزار 316 ریکارڈ ہوئی تھی جس میں سے 60 ہزار 331 کراچی میں رپورٹ ہوئے تھے۔ 2021ء میں صوبے میں ہونے والے جرائم کی کل تعداد ایک لاکھ 19 ہزار 545 ریکارڈ ہوئی، جس میں کراچی میں ہونے والے جرائم کی تعداد 81 ہزار 164 درج کی گئی۔

2020ء سے 2021ء کے دوران حیدرآباد، لاڑکانہ، میرپورخاص، شہید بے نظیر آباد ڈویژن میں جرائم کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی۔ میرپور خاص ڈویژن سندھ کا سب سے محفوظ شہر قرار پایا جہاں 2020ء میں 3569 اور 2021ء میں 3283 جرائم رپورٹ کیے گئے۔

سال 2016ء میں کراچی میں مجموعی طور پر 36 ہزار 670 جرائم رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 2021ء تک 121 فیصد اضافے سے 81ہزار 164 تک پہنچ گئی۔ کراچی میں گاڑی چوری اور چھیننے کی وارداتوں کے ساتھ جن جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں چوری ڈکیتی، اغوا، بچوں کے اغوا، خودکشی، زیادتی کے واقعات میں بھی 6 سال کے دوران نمایاں اضافہ ہوا۔

سال 2021ء میں 5563 ڈکیتیاں 1841 چوریاں ہوئیں، اس سال کراچی میں 2883 افراد اغوا کیے گئے، 75 خودکشی اور اقدام خودکشی کے کیسز رپورٹ ہوئے، 493افراد قتل کیے گئے، 601 اقدام قتل کے جرائم رپورٹ ہوئے جبکہ زیادتی کے 185 کیسز درج کیے گئے۔ آرمز آرڈی ننس کی خلاف ورزی پر 5797 کیسز درج کیے گئے۔