الیکشن میں تاخیر ہوئی تو جماعت اسلامی مخالفت کرے گی۔ سراج الحق

557
oppose

لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے واضح کیا ہے کہ الیکشن میں تاخیر ہوئی تو جماعت اسلامی مخالفت کرے گی۔

سراج الحق کا کہنا تھاکہ پارلیمنٹ کی مدت میں توسیع کے بیانات دیے جارہے ہیں ، بتانا چاہتا ہوں یہ ملک اب کسی کی خواہش پر نہیں، آئین اور جمہور کی مرضی کے مطابق چلے گا۔ 2018 میں سلیکشن ہوئی، اب پی ڈی ایم بھی فکس میچ چاہتی ہے.

ان کا کہنا تھاکہ موجودہ بندوبست 100 فیصد ناکام ہوگیا، یہ لوگ جتنی دیر اقتدار میں رہیں اور جو مرضی کرلیں ، عوام کے دل اپنی طرف نہیں موڑ سکتے، اقتدار میں یہ ان کا پہلا موقع نہیں ، سبھی نے باریاں لیں، اب عوام اور اس کے حقیقی خدمت گاروں کی باری آئے گی۔ پاکستان جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں معرض وجود میں آیا، یہاں 75 برس بعد بھی لوٹا کریسی چل رہی ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی سے آزادی کے بعد آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی اختیار کرلی گئی۔ ملک اسلام کے نام پر بنا، جماعت اسلامی عوامی جمہوری جدوجہد سے یہاں اسلامی نظام نافذ کرے گی۔ یہ باتیں انہوں نے الحمراہال میں انتخابات کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں.کنونشن کا انعقاد جماعت اسلامی پنجاب وسطی کی جانب سے کیا گیا تھا جس سے نائب امیر لیاقت بلوچ ، سیکرٹری جنرل امیر العظیم اورامیرجماعت اسلامی پنجاب وسطی مولاناجاوید قصوری نے بھی خطاب کیا

سراج الحق کا کہنا تھا کہ کراچی میں عوام نے جماعت اسلامی کو مینڈیٹ دیا مگر پی پی کی ضد ہے کہ میئر جیالا ہوگا ، ایک طرف نو لاکھ ووٹ ہیں دوسری طرف پیپلز پارٹی کے سوا تین لاکھ ، مگر سوا تین لاکھ کو زندہ آباد اور نو لاکھ مردہ آباد کہا جارہا ہے، یہ ظلم اور جمہوریت پر ڈاکہ زنی ہے ، جماعت اسلامی مافیاز کا مقابلہ کرے گی۔

امیر جماعت کا کہنا تھا کہ ان پر خود کش حملہ کو ایک ماہ کے قریب ہوگیا ہے، ابھی تک دہشت گردی واقعہ کی تحقیقات سے متعلق عوام کو آگاہ نہیں کیا گیا، جہاں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کے ساتھ ایسا ہورہا ہے وہاں عام پاکستانی کی کیا حالت ہوگی۔ بلوچستان بارور کے ڈھیر پر ہے، خیبر پختوانخواہ میں روزانہ لاشیں گررہی ہیں ، ملک کا ہر علاقہ کچے کا علاقہ بن چکا ہے ۔ عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا ہے، احتساب کے ادارے ناکام، عدالتیں بے بس ہیں۔ پانامہ لیکس کیس میں چار سال بعد سنوائی ہوئی تو سوال مجھ سے ہی پوچھا گیا کہ کہ ان افراد کا کیس لے کر نیب ، اینٹی کرپشن کیوں نہیں گئے۔ ملک کو بے دردی سے لوٹنے والوں کا کوئی ادارہ احتساب نہیں کرسکتا، اب صرف عوام کا ادارہ بچا ہے جو ووٹ کی طاقت سے لٹیروں اور ظالموں کا احتساب کرے گا۔

ان کاکہنا تھاکہ ملک پر مسلط پارٹیاں بری طرح پٹ چکی ہیں ، یہ سب عالمی اسٹیبلشمنٹ کے وفادار ہیں جو قرضے لے کر خود کھاگئے اور اپنی جائیدادوں اور دولت میں اضافہ کیا ۔ غریب کا بچہ بھوکا سوتا ہے، تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں ، سات کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں ، گیارہ کروڑ لوگ خطِ غربت سے نیچے ہیں ، 85 فیصد عوام مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں ،سٹیٹس کو کے علمبرداروں نے پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا .

کنونشن میں دیگر مقررین اور اہم شرکاء میں سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف ،امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم ، امیر جماعت پنجاب جنوبی رائو ظفر،سیکرٹری جنرل پنجاب وسطی نصراللہ گورائیہ، صدر سیاسی کمیٹی پنجاب وسطی، چوہدری شوکت، سیکرٹری سیاسی کمیٹی پنجاب وسطی وقاص احمد بٹ اور امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری ایڈووکیٹ شامل تھے ۔ تقریب میں امراء اضلاع، وسطی پنجاب سے جماعت اسلامی کے قومی وصوبائی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈرز، خواتین اور کارکنا ن کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر پنجابی ترانہ حل تے صرف جماعت اسلامی بھی ریلیز کیا گیا۔