پاکستانی پیٹرول کے مہنگا ہوتے ہی اسمگل شدہ ایرانی تیل کی قیمت میں بھی اضافہ

335

کوئٹہ:پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایران سے سمگل شدہ تیل کی قیمتوں میں بھی غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

  16فروری کوپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے قبل بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایرانی ڈیزل فی لیٹر 188 روپے فروخت ہو رہا تھا لیکن ہفتے کے روز سرحدی گزرگاہ پر ڈیزل کی قیمت 210 روپے تھی جو ضلعی صدر مقام دالبندین پہنچ کر 220 روپے فی لیٹر ہو گئی۔دوسری جانب ایرانی پیٹرول کی قیمت بھی 150 روپے سے بڑھ کر 215 تک پہنچ چکی ہے۔

چاغی کے صدرمقام دالبندین میں ایرانی تیل کی خرید و فروخت سے وابستہ محمود خان جو کہ تیل کمیٹی کے سرگرم رکن بھی ہیں نے بتایا کہ پاکستانی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ایرانی تیل کی مانگ بڑھ جاتی ہے کیونکہ سرحدی اضلاع سے بڑے بڑے ٹینکرز، ٹرک اور بسیں یہ تیل اندرون بلوچستان سمیت سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا تک لے کر جاتے ہیں اور وہاں یہ تیل پاکستانی تیل کی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق ایرانی سرحد سے متصل گزرگاہ راجے سے یومیہ تقریباً 15 لاکھ لیٹر ڈیزل آتا ہے جہاں سے روزانہ 250 ایسی گاڑیاں تیل لے جاتی ہیں جن کو ضلعی انتظامیہ اور فرنٹیئر کور نے ٹوکن نمبر جاری کیا ہے۔