ایک ناگزیر سوال

953

کہا جاتا ہے: ’’رُوم جل رہا تھا اور نیرو چَین کی بانسری بجارہا تھا‘‘، سو اگر ہمارا قومی مزاج بھی شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبا کر یہ فرض کرلینا ہے کہ خطرہ ٹل گیا ہے تو ’’گھر پھونک، تماشا دیکھ‘‘ کی اس نفسیاتی بیماری کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم ایک حقیقت پسند قوم ہیں، ملک وقوم کو درپیش خطرات اور حالات کا ہمیں احساس ہے، تو ایک ناگزیر سوال ہمارے سر پہ کھڑا ہے کہ آیا ہمارا ملک اب بھی قابل ِ حکمرانی ہے یا ایک ناقابل ِ حکمرانی ریاست میں تبدیل ہورہا ہے۔

ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب اور پختون خوا کے شہروں اور شاہراہوں میں بے امنی، انتشار اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے۔ وفاقی حکومت تقریباً مفلوج اور محصور دکھائی دیتی ہے اور یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ اگر پنجاب کنٹرول میں نہیں ہے تو وفاقی حکومت مفلوج اور محصور نظر آئے گی۔ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے بعض لیڈر برملا اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں، کیونکہ بظاہر وفاق کی حکمرانی وفاقی دارالحکومت تک محدود ہے اور ائرپورٹ، موٹرویز اور ہائی ویز تک رسائی بھی مَعرض ِ خَطَر میں ہے، کبھی بحال ہوتی ہے اور کبھی بند کردی جاتی ہے۔ یہ بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ پنجاب اور پختون خوا کے صوبے وفاق کے مقابل کھڑے ہیں، وفاق کو چیلنج کر رہے ہیں اور صوبائی پولیس جو امن وامان کی ذمے دار ہے، وہ بھی معطل ہے، مفلوج ہے یا صوبائی حکومت کے حکم پر قانون کی عمل داری کو مفلوج کرنے والے عناصر کو تحفظ دینے پر مامور ہے۔

جنابِ عمران خان ایک ضدی، ہٹ دھرم، منتقم مزاج اور زود رنج شخصیت میں ڈھل چکے ہیں، اُن کے خلاف تحریک ِ عدم اعتماد جمہوری انداز میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی، مگر وہ اسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں، کبھی اسے امریکی سازش قرار دیتے ہیں اور کبھی مقتدرہ سے شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ انہوں نے میری حکومت کیوں نہ بچائی، چنانچہ وہ انہیں میر جعفر، میر صادق، ہینڈلر، جانور، نیوٹرل اور نہ جانے کیسے کیسے القاب سے نوازتے ہیں۔ تاریخ ِ عالَم یہ بتاتی ہے کہ جب کوئی جذباتی، منتقم مزاج، انا پرست، اپنی پارسائی اور برتری کا حد سے زیادہ یقین رکھنے والا حکمران یا سیاسی رہنما عوامی مقبولیت بھی پالے، تو وہ فاشسٹ بن جاتا ہے۔ ماضی میں یورپ میں ہٹلر اور مسولینی عوامی مقبولیت کے بل پر ہی حکمران بنے اور پھر فاشسٹ بن کر اپنے ہی ملکوں کو تباہی سے دوچار کیا، کچھ ایسا ہی منظر ہم اپنے ہاں بھی دیکھ رہے ہیں۔

عمران خان کو مقتدرہ نے اپنی خصوصی مہارت سے پالا پوسا، ان کی شخصیت کو بنایا سجایا، پھر سوشل میڈیا کو کمالِ مہارت سے استعمال کرتے ہوئے اُن کا غیر معمولی تاثّر لوگوں بالخصوص نوجوان نسل کے ذہنوں میں راسخ کیا، پھر اقتدار میں لانے کے لیے تمام تدابیر اختیار کیں، اُن کے مخالفین کو نشانِ عبرت بنایا، اُن کے راستے کے کانٹے ایک ایک کر کے صاف کیے، انہیں مکمل حمایت سے نوازا، خود خان صاحب کے بقول ہر مشکل مرحلے میں وہ ان کی مددکو آئے، جب ضرور ت محسوس ہوئی تو ارکانِ پارلیمنٹ کو گھیر کر اُن کی حمایت میں ووٹ دلانے کے لیے لائے۔

اب اس عادت سے چھٹکارا اُن کے بس میں نہ تھا، انہوں نے اپنے بارے میں فرض کرلیا کہ انہیں قدرت نے دائمی حکمرانی کے لیے بنایا ہے، لہٰذا ریاست کے ہر ادارے، ہرفرد، ہر شعبے اور ہر عنصر کو ہمہ وقت اُن کی حمایت پر کمر بستہ ہونا چاہیے، کیونکہ اُن کے خیال میں یہ اُن کا استحقاق ہے۔ اُن کی اپوزیشن ایسے حالات میں اقتدار میں آئی کہ عالمی اقتصادی صورتِ حال ناسازگار اور ابتر ہوگئی۔ ترقی یافتہ ممالک (امریکا، کینیڈا، یورپین یونین، برطانیہ وغیرہ) میں بھی مہنگائی تاریخ کی ریکارڈ سطح پر ہے، توانائی (پٹرول، ڈیزل اور بجلی وغیرہ) کی قیمتیں تمام انتہائوں کو عبور کرچکی ہیں، حال ہی میں ہمیں کینیڈا اور برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا، وہاں بھی لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

لیکن ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک میں فرق یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں کو عالمی محرکات کا اندازہ ہوتا ہے، اُن کی ناگزیریت کا ادراک ہوتا ہے، اس لیے اپنی حکومتوں کے بارے میں اُن کا ردّعمل قدرے متوازن ہوتا ہے، جبکہ ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک میں عوام کو عالمی رجحانات کا ادراک نہیں ہوتا اور وہ ان چیزوں کو اپنی حکومت کی نا اہلی اور ناکامی سے تعبیر کرتے ہیں۔ شاید اب ماضی کی اپوزیشن والے پچھتارہے ہوں گے کہ یہ وقت اقتدار کو ہاتھ میں لینے کا نہیں تھا، لیکن: ’’اب پچھتاوے کیا ہووَت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘، اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو اس سال کی طوفانی بارشوں نے وہ بھی پوری کردی، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ایسی تباہی کی ماضی قریب میں مثال نہیں ملتی، تین کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہوگئے اور ایک اندازے کے مطابق تیس ارب ڈالر یعنی چھیاسٹھ کھرب روپے سے زیادہ کا اقتصادی نقصان ہوچکا ہے۔

عمران خان کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے ہمارے نظام کے کھوکھلے پن کو خوب آشکار کیا۔ عدلیہ اور مقتدرہ سمیت اداروں نے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کو اپنا شعار بنالیا تھا، اس لیے اسلام آباد میں بیٹھا ہوا حکمران ہر وقت لرزاں وترساں رہتا ہے، اُسے اپنے حال و مستقبل اور بے اختیاری وبے توقیری کی فکر لاحق رہتی ہے، اُس کی قُویٰ مضمحل رہتی ہیں، بیوروکریسی بھی ڈری سہمی رہتی ہے کہ کہیں کل ہمیں ہی انتقام کا نشانہ نہ بنادیا جائے۔ الغرض فیصلہ سازی کی صلاحیت مفقود ہوجاتی ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں کہ جب ہیئت ِ حاکمہ متضاد عناصر کا مجموعہ ہو، ہر شریک ِ حکومت پہلے سے سمٹے ہوئے خوانِ اقتدار سے زیادہ سے زیادہ سمیٹ لینے کی فکر میں ہو، تو انجام نوشتہ ٔ دیواربن جاتا ہے۔ چھوٹے گروپ ہر وقت بلیک میل کرتے رہتے ہیں، کیونکہ حکومت کی بقا کے لیے توازن اُن کے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ اگر وہ حمایت واپس لے لیں تو حکومت دھڑام سے گر جائے۔

خان صاحب نے مقتدرہ کو اتنا بے توقیر کردیا ہے کہ اُن کا رعب ودبدبہ تو دور کی بات ہے، بھرم بھی باقی نہیں رہا، ماضی کے پچھتر سال میں مقتدرہ کی اتنی بے توقیری کبھی نہیں ہوئی تھی، اگرچہ یہ خود ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، انہیں کسی اور سے گِلہ کرنے کا حق نہیں پہنچتا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’لوگوں کے اپنے کرتوتوں کے سبب برّوبحر میں فساد برپا ہوگیا تاکہ اللہ انہیں اُن کے بعض اعمال کی سزا چکھائے، ہوسکتا ہے کہ وہ باز آجائیں‘‘، (الروم: 41)، ’’اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پرامن اور پرسکون تھی، ہر جگہ سے اُس کی روزی اُس کے پاس وافر مقدار میں آتی تھی، پھر اس بستی والوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اس بستی والوں کو ان کے کرتوتوں کے سبب بھوک اور خوف کا عذاب چکھایا‘‘۔ (النحل: 112) اس آیت میں بھوک اورخوف کو لباس سے تشبیہ دی، لباس اپنے پہننے والے کے وجود کو گھیر لیتا ہے، یعنی اسی طرح بھوک اور خوف نے ان کے وجود کو گھیر رکھا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’(اے رسولِ مکرّم!) کہہ دیجیے: وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے پائوں کے نیچے سے کوئی عذاب بھیجے یا تمہیں مختلف گروہ بناکر ایک دوسرے کو تشدّد کا مزا چکھائے، دیکھو! کس طرح سے ہم (اپنی) نشانیاں بار بار بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں‘‘۔ (الانعام: 65) مفسرین کرام نے لکھا: ’’اوپر سے عذاب سے مراد یہ ہے کہ حکمران ظالم ہوجائیں اور نیچے کے عذاب سے مراد یہ ہے کہ ماتحت نافرمان ہوجائیں یا اوپر سے طوفانی بارشیں برسیں اور نیچے سے سیلاب برپا ہوں یا زلزلے آئیں، اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔

الغرض اس وقت ہمارا ملک انارکی، بدنظمی، انتشار اور اقتدار کی بے توقیری کا منظر پیش کر رہا ہے، اقوامِ عالَم بھی اس کا مشاہدہ کر رہی ہیں، جب اقتدار ڈانواں ڈول ہوتو ایسے حالات میں کون ہم سے معاملہ کرے گا اور کس سے معاملہ کرے گا۔ متبادل قوت عمران خان نے تو دنیا کے سامنے اپنا منفی تاثّر پیش کیا ہے، وہ ایک مغلوب الغضب اور منتقم مزاج بن کر سامنے آئے ہیں، جبکہ قیادت کی اہلیت کے لیے قائد کی شخصیت کا متحمل مزاج، بُردبار اور مُدَبِّر ہونا ضروری ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ عدلیہ اداروں کے دائرۂ کار واختیار میں توازن کی ضامن ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجے میں جو آزاد عدلیہ وجود میں آئی، وہ خود غیر متوازن ہوگئی، پارلیمنٹ اور منتظمہ کے دائرۂ اختیار میں تجاوزات کی کئی مثالیں مل جائیں گی۔ نیویارک، واشنگٹن، لندن یا کسی ترقی یافتہ ملک کے کسی بڑے شہر میں کھڑے ہوکر لوگوں سے اُس ملک کی عدالت عظمیٰ یا چیف جسٹس یا جج صاحبان کے نام پوچھیں تو ہمیں سوفی صد یقین ہے کہ ایک فی صد لوگوں کو بھی ان کے نام معلوم نہیں ہوں گے، مگر ہمارے ہاں روز ٹی وی اسکرین پر ٹِکرچلنا ضروری ہیں۔

جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے جو تاثّر چھوڑا، وہ انتہائی افسوسناک ہے اور اب بھی عدلیہ کے مزاج میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آرہی۔ ایک المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مقتدرہ اور عدلیہ حقیقی معنوں میں کسی کو جواب دہ نہیں ہیں، اگر وہ اپنے دائرۂ کار سے تجاوز کریں تو اُن کے لیے تحدید وتوازن کا کوئی مؤثر انتظام نہیں ہے، پارلیمنٹ اور ایگزیکٹیو کو تو ویسے ہی بے توقیر بنادیا گیا ہے، اس بے توقیری میں ان کا اپنا کردار بھی شامل ہے، ظہیر دہلوی نے کہا ہے:

کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں، جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی، دیوانہ بنا دیتے ہیں

الغرض ملک میں بے یقینی کے سائے چھائے ہوئے ہیں، کہیں سے روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی، کسی کو نہیں معلوم کہ ہمارا آنے والا کل کیسا ہوگا، ہمارے حال سے بدتر ہوگا یا پردۂ غیب سے کوئی خیر کی صورت پیدا ہوگی، خداوند ِ قدّوس ذات ِ مُسَبِّبُ الاسباب سے بصد اخلاص وعَجز ونیاز دعا ہے کہ وہ اپنے حبیب ِ مکرّم ؐ کے طفیل ہمارے ملک وقوم کے لیے کوئی خیر کی صورت مقدر فرمائے، ورنہ ظاہری اسباب مایوس کن ہیں، جس وقت ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں، امریکی انتخابات کے نتائج ریپبلکن پارٹی کے حق میں ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اُسے غلبہ حاصل ہوسکتا ہے، اگر ایسا ہوا تو صدر بائیڈن کو اپنی مَن پسند پالیسیاں بنانے میں دشواری ہوگی، اس کا اثر پاکستان سمیت عالمی سیاست پر پڑے گا۔