کراچی والوں کو سلام

628

ہم کراچی والوں کو سلام ہی نہیں سیلوٹ بھی کرتے ہیں۔ اس شہر کے لوگ بلا تخصیص زبان رنگ و نسل و علاقہ اصلی کراچی والے ہیں جو یہاں رہتا ہے کام کرتا ہے یہیں جیتا ہے اور یہیں مرتا ہے وہ کراچی والا ہے۔ اس شہر اور شہر کے لوگوں پر 60 برس سے زیادہ عرصے سے ظلم ہورہا ہے۔ جی ہاں یہ وہی شہر ہے جس کی سڑکوں پر جھاڑو ہی نہیں دی جاتی تھی بلکہ یہ سڑکیں دھوئی جاتی تھیں۔ پورے شہر کے فٹ پاتھوں اور سڑک کے کنارے پڑی مٹی پر چھڑکائو ہوتا تھا۔ لوگ بہت خوشحال نہیں تھے لیکن بہت خوش تھے۔ اس شہر نے ہمیشہ آگے بڑھ کر ملک کے ہر مسئلے میں ساتھ دیا۔ امت مسلمہ کا دل بن گیا۔ کشمیر، فلسطین، بوسنیا کہیں بھی مسلمانوں کی مدد کی ضرورت پڑے کراچی کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ شہر پہلے بھی ایسا ہی کررہا تھا اور اب بھی ایسا ہی کررہا ہے۔ کراچی کے اس جرم کی سزا دینے کے لیے اس شہر پر قوم پرستی کا عذاب مسلط کیا گیا۔ 35 برس میں 35 ہزار سے زائد جوان اس شہر سے چھین لیے گئے لیکن اس قوم پرستی کے عذاب کے باوجود کراچی کا مزاج نہیں بدلا۔ 2005ء کا زلزلہ ہو یا 2010 کا سیلاب یا آج کل آنے والا سیلاب کراچی اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ آگے ہے۔ کراچی اس ملک کی معیشت کا گڑھ ہے۔ ہمارے حکمراں ملک کا دارالحکومت یہاں سے نکال کر لے گئے لیکن وسیع دل والوں کو یہیں چھوڑ گئے۔ صنعت کار، تاجر، درآمد و برآمد کنندگان، دوا ساز، ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں نے دنیا بھر کے لیے مال تیار اور برآمد کیا۔ لیکن اس شہر کی اتنی خوبیوں کے باوجود ہمارے حکمرانوں نے اس شہر کو کیا دیا۔ اس شہر سے پورے ملک کا 80 فی صد ٹیکس جاتا ہے، اس شہر کے 90 فی صد ٹیکس کی حصہ دار صوبائی حکومت
ہے۔ نہ مرکز اس کی دیکھ بھال کرتا ہے نہ صوبہ، دونوں ٹیکس وصول کرکے اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔ کراچی کا انفرا اسٹرکچر رفتہ رفتہ تباہ ہوا ہے۔ یہ ایک دن کی کہانی نہیں یہ برسوں کی کہانی ہے۔ بڑی مشکل سے 1979ء سے 1986ء تک عبدالستار افغانی اور جماعت اسلامی کی ٹیم نے اس شہر کو سنبھالا۔ اس کا انفرا اسٹرکچر بحال کرنے کا آغاز کیا لیکن مرکز نے 1987ء میں ایم کیو ایم مسلط کردی پھر جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔ روشنیوں کا شہر بوری بند لاشوں، بھتوں اور ہڑتالوں کا شہر بن گیا، سڑکیں تباہ ہوگئیں، نفرا اسٹرکچر بیٹھ گیا اور یہ گروہ شہری اور صوبائی نظم و نسق کی جڑوں میں بیٹھ گیا۔
کراچی کے صنعت کار اور تاجر 1987ء سے 2001ء تک یرگمال رہے۔ رفتہ رفتہ وہ اس گروہ سے آزاد ہوئے تو دوسرے گروہ صوبائی حکومت نے پنجے گاڑ لیے۔ پہلے بھتے تھے اب نت نئے ٹیکس ہیں۔ بجلی اور پٹرول کے کوڑے برسائے جاتے ہیں اور سڑکوں کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا ہے۔ گزشتہ 13 برس سے ایک ہی پارٹی سندھ اور کراچی پر مسلط ہے۔ کراچی کو دوسرا سنبھال نعمت اللہ خان اور ان کی ٹیم نے 2001ء میں دیا۔ لیکن اس نعمت کو دوبارہ شہر کی خدمت سے روک کر اس کو ترقی سے محروم کردیا گیا۔ ایک بار پھر ایم کیو ایم کے مصطفی کمال لائے گئے، نعمت صاحب کے ترقیاتی کاموں کی تکمیل سے بڑھ کر وہ کوئی خاص کام نہ کرسکے لیکن پھر بھی ان کا دعویٰ یہی ہے کہ میں نے شہر کو ترقی دی۔ وہ دور بھی گزر گیا اس میں تباہی شروع نہیں ہوئی تھی لیکن اس کے بعد شہر کی مکمل تباہی کا آغاز کیا گیا۔ یہ شہر اب کھنڈر ہے۔ ایسا کیوں ہے اس لیے کہ اس شہر کے اصل وارثوں کو اس سے الگ کردیا گیا ہے۔ پہلے جو شہر کے وارث ہونے کے دعویدار تھے وہ لندن میں بیٹھ کر صرف بھتے اور فنڈز وصول کرتے تھے۔ انہیں شہر کی ترقی و تعمیر سے، پاکستان کی برآمدات سے، اس کی سڑکوں سے، یہاں رہنے والوں کے لیے پانی کی فراہمی سے… غرض ہر چیز سے بیگانہ تھے۔ جب ایم کیو ایم سے جان چھوٹی اس کے بعد بھی اس کے ٹکڑوں میں سے ایک کو شہر پر مسلط رکھا گیا۔
جب شہر کی تباہی کی بنیاد ایم کیو ایم کے ذریعے رکھی گئی، لسانی نفرت پھیلائی گئی۔ سندھی، پنجابی، پختون سب کے خلاف نعرے لگائے گئے، پھر سب سے مل کر اقتدار کی بندربانٹ میں شریک رہے تو ان کے اپنے ٹکڑے ہونے کے بعد سندھ کی حکمراں جماعت نے اپنے لوگوں کے لیے کراچی کی بلدیات اور دیگر شہری ادارے کھول دیے۔ پھر ماورائے قانون بھرتیوں کا سلسلہ شروع ہوا، کسی قانون کو نہیں دیکھا گیا بلکہ گزشتہ دو عشروں کا بدلہ لینے کے لیے شہر کے تمام اہم ادارے حکومت سندھ کے ہاتھ آگئے۔ اب شہر کے ایڈمنسٹریٹر بھی حکومت کے اور ادارے بھی صوبائی حکومت کے پاس لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ اصلاح کہاں سے کریں۔ ویسے یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ وہ سمجھنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔ لیکن صورت یہ ہے کہ کراچی میں جابجا گڑھوں کے درمیان کہیں کہیں سڑکیں بھی نظر آجاتی ہیں، پانی نلکوں سے زیادہ پانی گٹر سے نکلتا ہے۔ گٹر لائنوں کی خرابی کا حال یہ ہے کہ جگہ جگہ بائی پاس بنے ہوئے ہیں۔ لائن بیٹھ گئی تو انتظامیہ اس کو ٹھیک نہیں کرپاتی، بیش تر جگہ تو فنڈز کی قلت آڑے آتی ہے باقی کام نالائقی کرتی ہے۔ اور گٹر بہہ کر ٹوٹی ہوئی لائن کے اُس پار دوسرے گٹر میں خود گر کر بائی پاس بنا دیتا ہے۔ یہ منظر شہر میں جگہ جگہ دیکھے جاسکتے ہیں۔ سڑکوں کے بارے میں گزشتہ میئر وسیم اختر کا دور شاہکار تھا وہ پورے دور میں اختیارات اور فنڈز کا رونا روتے رہے اب بھی ان کا دعویٰ ہے کہ ہم سب ٹھیک کردیں گے۔ لیکن سڑکوں کا یہ حال ہے کہ موٹر سائیکل سوار اور رکشہ اور ویگن سواروں کی کمر کی ہڈیاں اور ریڑھ کی ہڈیاں اپنی جگہ چھوڑ رہی ہیں۔ شہر میں چالیس فی صد لوگوں کا مسئلہ کمر درد اور ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ہے۔ اس کا سبب یہی سڑکیں ہیں معاف کیجیے، یہی گڑھے ہیں جن میں کہیں کہیں سڑک بھی ہوتی ہے، رہی سہی کسر حالیہ تیز بارش نے پوری کردی جہاں کہیں سڑک نظر آتی تھی وہ بھی غائب ہوگئی۔ اب شاہکار سائن بورڈ نظر آتے ہیں۔ تعمیراتی کام جاری ہے۔ زحمت کے لیے معذرت۔ لیکن بورڈ یوں ہونا چاہیے۔ ہم تعمیراتی کام کررہے ہیں، زحمت کے لیے معذرت، چند روز میں سڑک کی جگہ گڑھے بنا کر آپ کا احساس محرومی ختم کردیں گے۔ ان سب مشکلات سے روز لاکھوں شہری گزرتے ہیں اور اپنے کام پر جاتے ہیں، اس شہر سے برآمدی مال کی تیاری میں کام کرتے ہیں ملکی صنعت کا پہیہ چلاتے ہیں اپنے حقیقی نمائندوں کے منتظر اس شہر سے مجاہدوں کو سلام۔