
جکارتہ(نمائندہ خصوصی) پاکستان ہاکی ٹیم کے مینیجر خواجہ جنید نے کہا ہے کہ ہاکی ورلڈکپ سے باہر ہونے کا بہت دکھ ہے، پوری قوم کی طرح سب کھلاڑی بھی بہت افسردہ ہیں، اچھی ہاکی کھیلنے کے بعد دو گول مسترد ہونے کی وجہ سے یہ دن دیکھنا پڑا۔میڈیاسے بات کرتے ہوئے ٹیم منیجر نے موقف اختیار کیا کہ میچ کے دوران جن کھلاڑیوں کی غلطیوں سے یہ 2 گول مسترد ہوئے، ان کی سرزنش کرنے کے ساتھ سمجھایا بھی گیا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کی ایک چھوٹی سے کوتاہی سے کتنا نقصان پوری ٹیم کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ منیجرکی ذمہ داری میدان سے باہر ہوتی ہے، گرائونڈ میں کس کھلاڑی کو کب اِن اور آئوٹ کرنا ہے، میچ کے اندر کیا ہو رہا ہے، یہ دیکھنا ہیڈکوچ کا کام ہے۔ ہائی پریشر میچ میں 12کھلاڑیوں کی موجودگی کا واقعہ پہلی دفعہ نہیں ہوا، اسی ایشیا کپ میں ملائیشیا اور کوریا کے درمیان میچ میں بھی یہ واقعہ پیش آیا تھا۔خواجہ جنید نے کہا کہ ماضی میں بھی بہت سے ایسے واقعات کی وجہ سے ہی ایف آئی ایچ کو قانون بنانا پڑا کہ اگر گرائونڈ میں 12 کھلاڑی ہوں گے تو گول یا پنالٹی کارنز کو مسترد اور کپتان کو کارڈ جاری کیا جائے گا، بدقسمتی سے ہمیں بھی کھلاڑیوں کی اس سنگین کوتاہی کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ دوسرا گول مسترد ہونے کا وجہ رانا وحید کا وہ فاول تھا جس کی اسٹک گول کیپر کے پیڈز پر اس وقت جا لگی جب عمر بھٹہ گیند کو جال میں پھینک رہے تھے۔خواجہ جنید کے مطابق بھارت کے خلاف 14 ور جاپان کے خلاف 18 بار اٹیک کیے گئے لیکن صرف تین گول ہی کرسکے، مسنگ کا ایشو ہمارا سب سے بڑا مسئلہ نظر آیا ہے، اس خامی کو جتنی جلد دور کرلیں گے اتنا ہی ہمارے لیے بہتر ہوگا۔