حیدر آباد،سکھر (اسٹاف رپورٹر،نمائندہ جسارت) سکھر، گڈو اور کوٹری بیراج کو مجموعی طور پر 40 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے۔انچارج کنٹرول روم سکھر بیراج نے تصدیق کی ہے کہ سکھر،گڈو اورکوٹری بیراج میں پانی کی قلت کا سامنا ہے جس کے باعث سکھراور گڈو بیراج کے کئی کینالوں کو پانی کی فراہمی متاثر ہے۔سکھر بیراج کے انچارج کنٹرول روم کے مطابق تینوں بیراجوں کو پانی کی مجموعی طور 40 پر فیصد سے زائد کمی کا سامناہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بالائی علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع نہیں ہوتا تو مزید بحران پیدا ہوگا، مزید یہ کہ اگر پانی کی بحرانی صورتحال برقرار رہی تو سندھ میں فصلوں کو شدید نقصان ہو سکتا ہے۔علاوہ ازیںسندھ میں پانی کی قلت شدت اختیار کر گئی، ٹھٹھہ کے بعد بدین میں بھی پانی کی عدم فراہمی کے خلاف مظاہرہ کیا گیا اور دھرنا دیا گیا۔تھرکول روڈ پر بیٹھے مظاہرین کی جانب سے نہروں میں پانی کی فراہمی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے وفاقی حکومت سے صوبہ سندھ کو حصے کا پانی دینے کی اپیل کر دی۔شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ میں پانی کی قلت سے ملکی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا ہو گا۔ٹھٹھہ میں پانی کی قلت کے خلاف قومی شاہرہ پر دھرنا دو گھنٹے بعد رکن سندھ اسمبلی سید ریاض کی یقین دہانی پر ختم کیا گیا۔دریں اثناء محکمہ داخلہ سندھ نے پانی چوری روکنے کیلیے نارا کینال کے نہروں پر رینجرز کو مقرر کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔محکمہ داخلہ سندھ نے ڈائریکٹر نارا کینال کی درخواست پر رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ نے ڈی جی رینجرز کو لیٹر بھیج دیا۔آبپاشی حکام نے نارا کینال کے علاقے بالخصوص جمراؤ، مٹھراؤ اور تھر ڈویژن میں غیر مجاز اور زبردستی پانی کے موڑ اور چوری کے واقعات کی اطلاع دی ہے۔متعلقہ حکام اور محکمہ آبپاشی اور اس سے منسلک دفاتر کے عملے کو ڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے کی شکایت ہے۔دوسری جانب صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے پانی قلت پر اہم بیان میں کہاہے کہ سندھ کو تھری ٹیئر فارمولے کے باعث حصے سے کم پانی فراہم کیا جارہا ہے ،پانی معاہدہ 1991 کے تحت رواں ماہ اپریل میں صوبہ سندھ کو خریف سیزن میں 2.408 ایم اے ایف پانی حصہ بنتاہے لیکن 1.388 ایم اے ایف پانی فراہم کیا گیا صوبہ پنجاب کے حصے کا پانی 4.116 ہوتاہے اور انہیں 2.719 ایم اے ایف پانی فراہم کیا گیا ارسا کے مطابق تمام صوبوں کو اس وقت منفی 36 فیصد پانی قلت کا سامنا ہے صوبہ سندھ کو منفی 36 فیصد کی شارٹیج کے حساب سے 1.542 ایم اے ایف پانی مہیا کرنا ہے لیکن ارسا 1.388 ایم اے ایف پانی دے رہا ہے ،سندھ کو اپنے حصے سے کم پانی مہیا کرنے سے صوبے کے اندر شدید پانی بحران پیدا ہو رہا ہے صوبہ سندھ کو فوری طور اپنے حصے کا پانی مہیا کرکے محرومی دور کی جائے۔