عمران خان کا سراج الحق سے رابطہ ،ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال ،روابط جاری رکھنے پر اتفاق

441
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی زیرصدارت مجلس عاملہ کا اجلاس ہورہا ہے

لاہور(نمائندہ جسارت) سابق وزیر اعظم پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے سراج الحق سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں دونوں رہنمائوں کے درمیان ملک کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال اور مستقبل میں روابط کو قائم رکھنے پر اتفاق پایا گیا۔ مزید برآںامیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کی منصورہ میں ہونے والے اجلاس کی صدارت کی جس میں سیاسی صورت حال، الیکشن کی تیاریوںاور تنظیمی امور پر گفتگو ہوئی اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ بعدازاں انھوںنے واپڈا ٹائون میں ایک افطار کی تقریب میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم ، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری ، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور امیر جماعت اسلامی لاہور ذکراللہ مجاہد کے ہمراہ شرکت کی۔ افطار تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے ان سے 5 سال بعد رابطہ کیا ہے جسے ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی سیاسی رابطوںپر یقین رکھتی ہے تاہم ہمارا بڑا واضح موقف ہے کہ الیکشن کا جلدازجلد انعقاد ہو اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتیں مل کر انتخابی اصلاحات لے کر آئیں۔ ہم جمہوریت اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے تمام فیصلے مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی دلدل سے نکلنے کا واحد حل فوری شفاف انتخابات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو برطرف کرنے سے متعلق امریکی خط کے دعوئوں کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ جوڈیشل کمیشن تشکیل دے تاکہ قوم کو حقیقت معلوم ہو۔سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی سے پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کے رہنمائوں نے بھی عدم اعتماد کی تحریک کے دوران رابطے کیے۔ ہم نے تمام سیاسی قائدین کو بتایا کہ پاکستان کو شفاف انتخابات چاہییں اور ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ تمام مسائل کا حل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم کا ساتھ دیا نہ پی ٹی آئی کا۔ جماعت اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ ملک میں نام نہاد جمہوری حکومتیں اور فوجی مارشل لاز کے ادوار میں ملکی مسائل حل نہیں ہوئے۔ عوام کو آزمائے ہوئے جاگیرداروں اور وڈیروں سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی متبادل اپوزیشن کے طور پر اس وقت پارلیمنٹ میں موجود ہے۔ ہمارا قومی اسمبلی میں ایک ہی ایم این اے ہے جو بھرپور طریقے سے عوام کے حقوق کی نمائندگی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت اور عوام کی طاقت سے اقتدار میں آ کر پاکستان کو اسلامی نظام، سود سے پاک معیشت اور صحت اور تعلیم کا جدید نظام دیں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کسی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے حکومتیں گرانے اور بنانے کے حق میں نہیں ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ الیکشن میں دھاندلی، دولت کی ریل پیل ، دھونس اور طاقت کے عوامل کی مکمل حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پی ٹی آئی کی حکومت پر بھی 6 ماہ تک تنقید نہیں کی تھی۔ ہم یہ چاہتے تھے کہ پی ٹی آئی ملک کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کے لیے ایک قدم اٹھائے تو ہم 100 قدم ان کے ساتھ چلیں، مگر پونے 4 برس تک ایسا نہ ہو سکا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں کوئی حکومت موجود نہیں ہے۔ وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ منصوبوں پر فوکس کرنے کے بجائے ملک میں جلد شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں۔امیر جماعت نے کہا کہ فلسطین میں صہیونی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی اپیل پر آئندہ جمعہ کو یوم یکجہتی فلسطین منایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین اور کشمیر 70 سال سے عالمی اداروں، او آئی سی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے بڑا چیلنج ہیں جن پر ان کی خاموشی اہم سوالیہ نشان ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ اور سابق حکومتوں نے کشمیر کے مسئلے پر سنجیدگی نہیں دکھائی بلکہ کشمیر پر قبضے کے لیے بھارت کے لیے راہیں ہموار کیں۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کشمیر یوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔