امید ہے عدالت عظمیٰ جمہوریت کے استحکام کیلئے بہتر فیصلہ کرے گی،سراج الحق

508

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں جو ہوا، ملک کی سیاسی تاریخ میں عجوبہ تھا۔ بہتر تھا کہ سیاست دان ڈائیلاگ کے ذریعے مسئلے کا حل نکالتے، اب آگ اس قدر پھیل گئی ہے کہ تمام نگاہیں عدالت کی طرف ہیں۔ امید کرتے ہیں عدالت عظمیٰ جمہوریت کے استحکام کے لیے بہتر فیصلہ کرے گی۔ جماعت اسلامی کی خواہش ہے کہ نگران حکومت کا قیام عمل میں آئے، جو 90روز کی آئینی مدت کے دوران نئے انتخابات کرائے۔ الیکشن سے قبل انتخابی اصلاحات کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے متعارف اصلاحات یک طرفہ، سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ نہیں سمجھتا ملک کا سیاسی نظام اتنا مضبوط ہے کہ ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ ہو سکتی ہے، الیکشن کمیشن نے خود اتنی قلیل مدت میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ملک کو شفاف انتخابات اور مضبوط جمہوریت چاہیے، اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے لوگوں کو اقتدار میں لانے کے تجربات ناکام ہو گئے۔ وزیراعظم کے برعکس جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، الیکشن کمیشن اور عدلیہ مکمل نیوٹرل ہوں۔ اسلام آباد میں مفادات کے لیے ہفتوں کھیل جاری رہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وزیراعظم نے اپنی ہی اسمبلی پر حملہ کر کے اسے ختم کر دیا۔ ملکی معاملات میں امریکی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، جماعت اسلامی نے ہمیشہ اس کی مذمت کی۔ سوال یہ ہے کہ وزیراعظم نے کون سا ایسا کام کیا کہ واشنگٹن ان کی مخالفت پر اتر آیا۔ پی ٹی آئی حکومت نے تو پونے 4 سال امریکا اور عالمی اداروں کی ہاں میں ہاں ملائی۔ اگر وزیراعظم کو کوئی دھمکی ملی تھی، تو بروقت اس کا اعلان کرتے۔ الیکشن سے قبل حکمرانوں کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام ان کے گناہوں کو بھول جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔سراج الحق نے کہا کہ ملک میں جو ہوا وہ سیاست دانوں کی ناکامی ہے۔ اب بھی موقع ہے کہ سیاسی جماعتیں ذمے دارانہ کردار ادا کریں۔ سیاست دان خود مسائل حل نہیں کرتے، تو نتیجہ مارشل لاز کی صورت میں نکلتا ہے۔ جماعت اسلامی کمزور جمہوریت کو بھی فوجی حکومتوں پر ترجیح دیتی ہے، بدقسمتی سے ملک میں جمہوری اور سیاسی رویے پختہ نہ ہو سکے، وجہ ہمارے ملک کی سیاسی جماعتیں ہیں جو اپنے اندر بھی جمہوریت متعارف نہیں کرا سکیں۔ شہزادوں، وڈیروں، خانزادوں کی سیاست نے ملک تباہ کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں حکومت اپوزیشن اور اپوزیشن حکومت کا کردار ادا کر رہی ہے۔ جھگڑوں اور گالم گلوچ کی سیاست سے سارا نقصان عوام کا ہوا۔ 22کروڑ عوام جو ملک کے حقیقی وارث ہیں یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ حل یہی ہے کہ عوام کو موقع دیا جائے کہ وہ شفاف طریقے سے اپنے نمائندے منتخب کریں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو پہلے 100 دن موقع دیا کہ وہ وعدے کے مطابق ملک کو مدینے کی ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرے۔ اگر پی ٹی آئی ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی جانب ایک قدم اٹھاتی تو جماعت اسلامی 100 قدم تک اس کے ساتھ ہوتی، مگر بدقسمتی سے ایسا 4 سال میں نہ ہوا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ جماعت اسلامی نے حکومت اور پی ڈی ایم کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے، ہماری ساری جدوجہد ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے ہے جو اس مقصد کے لیے ہمارے ساتھ چلنا چاہے ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نیوٹرل نہیں ہے، بلکہ عوام کے حقوق کی بات کرتی ہے اور حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیراعظم کا اپنا خیال ہے کہ نیوٹرل جانور ہوتا ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ ملکی اداروں کو مکمل طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے اور ملک میں جمہوری اقدار اور آئین و قانون کی بالادستی قائم ہو۔ملکی وسائل حکمرانوں کی عیاشیوں کے بجائے غریبوں، مجبوروں کی فلاح پر خرچ ہوں اور پاکستان حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت بن سکے۔