ریاست ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکی،عدالت عظمیٰ

197

اسلام آباد(نمائندہ جسارت+صباح نیوز) عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ریاست اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکی۔عدالت عظمیٰ میں نجی اسکول سے بے دخل طالب علم کے دوبارہ داخلے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے طالب علم ریان احمد کے دوبارہ داخلے کی درخواست مسترد کر دی۔درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ نویں کلاس کے طالب کو اساتذہ اور بچوں سے بدزبانی اور مس کنڈکٹ کے باعث اسکول انتظامیہ نے بے دخل کیا لیکن اسکول بچے کو ہمیشہ کے لیے بے دخل نہیں کر سکتا۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ اساتذہ بہترین ججز ہوتے ہیں، ہمارے معاشرے میں اساتذہ کا مقام ہی الگ ہے، بچوں کی تربیت کریں ناکہ اساتذہ کو جواب دہ ٹھہرائیں، پتا نہیں کیسے کیسے اسکولوں کو پرمٹ دے رکھے ہیں، بچے کے حق میں فیصلہ ہو تو وہ اسکول جا کر کہے گا عدالت عظمیٰ نے اسے ڈانٹنے سے منع کیا ہے، استاد بچوں کو غلط کام سے روکنے پر دشمن نہیں بن جاتا۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ تعلیم گھر میں بھی حاصل ہو سکتی ہے مگر اسکولز ڈسپلن کی پاسداری کے لیے بنائے گئے ہیں، والدین آن لائن کلاسز سے خوش نہیں تھے کیونکہ بچے بگڑ رہے ہیں، بچہ صبح تیار ہو کر اسکول جاتا ہے اسے ضابطہ اخلاق کا معلوم ہوتا ہے، ہماری کلاس میں کسی نے ایسی حرکت کی ہوتی ہے تو اسے ایسی سزا ملتی کہ کھلیاں پڑ جاتیں۔جسٹس قاضی امین نے کہا کہ کھلیاں پڑنے والی سزاؤں کے باعث ہی ہم آج یہاں ہیں۔واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی طالب علم ریان احمد کی دوبارہ داخلے کی درخواست خارج کی تھی جسے مدعی نے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی سیٹوں کی تعداد بڑھانے کے لیے دائر آئینی درخواست مستردکردی ۔ جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ اقلیتی نشستوں کی تعداد بڑھانے کے لیے آئین میں ترمیم درکار ہے اور عدالت پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا حکم نہیں دے سکتی۔