مری : بد ترین حکومتی انتظامی و نا اہلی،22 سیاح جاں بحق ، وزیر اعظم کا استعفے کے بجائے تحقیقات کا حکم

253

 

مری/اسلام آباد/ لاہور (خبرایجنسیاں/ مانیٹرنگ ڈیسک)مری میںبدترین حکومتی وانتظامی نااہلی سے 22سیاح جاں بحق،وزیراعظم کا استعفے کے بجائے تحقیقات کا حکم،ایمرجنسی نافذ،حالا ت قابو سے باہر ہونے کے بعد فوج طلب،رات گئے تک لوگوں کو ریکسیو نہیں کیا جاسکا،صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ۔ تفصیلات کے مطابقمری میں برفانی طوفان میں پھنس کر خواتین اور بچوں سمیت 22 افراد لقمہ اجل بن گئے جس کے بعد مری کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا اور تمام داخلی راستے بند کردیے گئے۔مری میں شدید برفباری اور رش میں پھنس کر 22 افراد کی ہلاکت کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، برفباری میں پھنسے افراد کی آوازیں انتظامیہ تک ضرور پہنچیں لیکن انتظامیہ متاثرہ افراد تک نہیں پہنچی، لوگ 20 گھنٹے تک آسمان سے گرتی برف میں پھنسے رہے ،گاڑیاں دھنس گئیں۔ گاڑیوں میں پناہ لیے بے بس افراد کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ گاڑی بند کرکے حکومتی امداد کا انتظار کریں ،اسی انتظار میں انتظامیہ تو نہ پہنچی لیکن موت آن پہنچی ، لوگ اپنی گاڑیوں میں دم توڑ گئے۔مری کے علاقوں جھیکا گلی اور گلڈہ میں لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں ، امداد کے لیے پکار رہے ہیں۔ایک گاڑی میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد مردہ پائے گئے جبکہ ایک گاڑی میں 4 دوستوں کو موت نے ایک ساتھ آ دبوچا۔ ریکسیو اہلکاروں نے گاڑیوں کے دروازے کھولے تو اندر لوگوں کی لاشیں ملیں۔جس گاڑی سے 8 لاشیں ملیں اس میں جاں بحق افراد میں اے ایس آئی نوید اقبال، ان کی 3 بیٹیاں، بیٹا، بہن، بھانجی اور بھتیجا شامل ہیں۔مری میں سیر و تفریح کے لیے آنے والے4 دوستوں نے برف پر سیلفی بھی لی تھی جو کہ ان کی زندگی کی آخری سیلفی ثابت ہوئی، سیلفی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین گہرے دکھ اور غم کا اظہار کر رہے ہیں۔انتظامیہ ریسکیو کے لیے برف باری رکنے کا انتظار کرتی رہی لیکن موت نے انتظار نہیں کیا، سیر و تفریح کے لیے مشہور مقام مری میں سانحہ برپا ہوگیا ۔ واقعے پر ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے جبکہ لوگ انتظامیہ کی غفلت پر شدید غم و غصے کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مری کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور کہا کہ لوگ بغیر موسم کا تعین کیے بڑی تعداد میں مری پہنچ گئے، غیر معمولی برفباری اور بڑی تعداد میں لوگوں کے سیاحتی مقامات کا رخ کرنا سانحہ مری کا باعث بنا۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مری میں سیاحوں کی اموات پرافسردہ ہوں اور اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔مری کی صورت حال کو مانیٹر کرنے کے لیے قائم کنٹرول روم کے ذرائع کے مطابق شہر میںایک لاکھ سے زاید گاڑیاں داخل ہوئیں اور لوگ گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کرکے چلے گئے۔کنٹرول روم ذرائع کے مطابق مری میں رات سے بجلی کی فراہمی بند ہے ،گاڑیاں سڑکوں پر ہونے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، ہیوی مشینری سے برف کی کٹائی کا عمل جاری ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ مری میں گاڑیوں میں لوگ چھوٹے بچوں کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں اور گاڑیوں میں لوگوں کے پاس کھانے پینے کے لیے سامان بھی نہیں ہے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ مری میں برفانی طوفان کے باعث اب تک 22 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، کلڈنہ کے مقام پر سرچ آپریشن جاری ہے مگر شدید مشکلات ہیں، سڑکوں پربرف کے باعث ریسکیو 1122 کا عملہ پیدل چل کرسرچ آپریشن کر رہا ہے، سڑکوں پر بہت زیادہ برف ہے جس سے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات ہیں۔مری میں موجود ایک شہری نے بتایا کہ جب گزشتہ روز موسم خراب ہوا تو ہوٹل والوں نے کرائے بہت زیادہ بڑھا دیے کیوں کہ ہر شخص ہوٹل منتقل ہونا چاہ رہا تھا۔ شہری نے بتایا کہ ہوٹل والوں نے ایک کمرے کا کرایہ 50 ہزار تک کردیا تھا جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں نے گاڑی ہی میں رہنے کو ترجیح دی،حکومتی بے حسی، انتظامی لاپروائی اور ہوٹل والوں کی کاروبار کو ترجیح انسانیت کو لے ڈوبی۔مری میں اس سال ہونے والی برفباری کو 10 سال کی شدید برفباری قرار دیا جا رہا ہے اور اس دوران ہونے والی اموات کو مری کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ بتایا جا رہا ہے۔مری اور گلیات میں سڑکوں پر جمی برف کو ہٹانے کے لیے نمک پاشی کی جا رہی ہے تاکہ برف پگھلے تو سڑکیں کھولی جا سکیں۔خیال رہے کہ مری میں برفباری شروع ہوتے ہی ہزاروں سیاح سیاحتی مقام کی سیر کو پہنچ گئے تھے لیکن شدید برفباری کے باعث سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور خواتین اور بچوں سمیت سیاحوں کی بڑی تعداد نے رات خون جما دینے والی سردی میں کھلے آسمان تلے گاڑیوں میں ہی گزاری اور یہی اموات کی وجہ بنی۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار کی زیر صدارت مری میں شدید برفباری سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے سے متعلق ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مری میں جاری ریسکیو آپریشن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور سیکرٹری تعمیرات و مواصلات کو امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مری میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کیا جائے۔ انہو ں نے کہا کہ مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں اور خیبرپختونخوا کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ رات سے قبل سیاحوں کو نکالنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں اور سیاحوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہر وہ اقدام اٹھایا جائے جو انسانی بس میں ہو۔ وزیراعلی نے کہا کہ مری میں ریسٹ ہائوسز اور سرکاری دفاتر کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔مری کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ پولیس کی اضافی نفری کو مری بھجوانے کی ہدایت کی ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے فوج کو بھی طلب کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مری میں بجلی کی بحالی کے لیے واپڈا حکام سے رابطے میں ہیں۔پھنسے ہوئے سیاحوں کو کھانے پینے کی اشیا اور دیگر امدادی سامان ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیا جا رہا ہے۔مری میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات لے کر جانے والی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہے۔وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دیگر شہروں سے ضروری مشینری بھی مری بھجوائی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں تمام صورتحال کا خود جائزہ لے رہا ہوں اور ہماری کوشش ہے کہ رات سے قبل ریسکیو آپریشن کو مکمل کر لیا جائے اور اس مقصد کے لیے پنجاب حکومت کی تمام مشینری مری میں ریسکیو آپریشن میں مصروف ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کمشنر آفس راولپنڈی اور پی ڈی ایم اے میں کنٹرول روم قائم کر دیے گئے ہیں۔