واشنگٹن : ایران پر جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے عالمی طاقتوں کا دباؤ جاری ہے جبکہ اسی تناظر میں امریکا نے ایران پر عائد پابندیاں سخت کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے بینکوں کو ایران سے کاروبار کرنے سے منع کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا ایران پر عائد جوہری پابندیوں کو مزید سخت کرنے جا رہا ہے۔
حالیہ جاری امریکا ایران جوہری مذاکرات میں 2015 میں ہوئے معاہدے کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں، اگرچہ فریقین ابھی کسی نتیجے پہ نہیں پہنچ سکے ہیں مگر امریکا کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے اپنے وفد کوایسے وقت میں یو اے ای بھیجنے کا اعلان کیا ہے جب امریکا کا اتحادی یہ ملک علاقائی کشیدگی پرقابوپانے اور ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتربنانے کے لیے کام کررہا ہے۔
امریکی وفد میں محکمہ خزانہ کے دفتربرائے غیرملکی اثاثہ جات کنٹرول کی سربراہ آندریا گاکی بھی شامل ہوں گی۔وفد متحدہ عرب امارات کے ان بنکوں کوخبردار کرے گا جن کا ایران کے ساتھ کاروباری لین دین ہیاوروہ پابندیوں کی تعمیل نہیں کر رہے ہیں۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے بنکوں کی عدم تعمیل کے شواہد موجود ہیں اور بعد میں ان بنکوں کو ان کے معاملات پر پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے یا سزا دی جا سکتی ہے۔
اماراتی حکام نے اس اطلاع پرکسی تبصرے سے انکار کیا ہے،اگرچہ متحدہ عرب امارات ایران کے جوہری عزائم، میزائل پروگرام اور علاقائی گماشتہ مسلح گروپوں کی سرپرستی سے متعلق خلیجی طاقت سعودی عرب کے خدشات کی تائید کرتا ہے لیکن ابوظبی نے ایران کے ساتھ اپنے روابط تیز کردیے ہیں اورگذشتہ پیر کو ایک سینیرعہدہ دار کو تہران بھیجا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات نصف صدی پرپھیلے ہوئے ہیں۔اس نے2018ءمیں کہا تھا کہ وہ (تب سابق)امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے بعد ایران کے خلاف پابندیوں کے دوبارہ نفاذ پر مکمل عمل پیرا ہے۔
اس جوہری سمجھوتے کے تحت ایران نے بڑی طاقتوں سے اتفاق کیا تھا کہ وہ بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام پرپیش رفت روک دے گا۔