ایران : مہنگائی کی شرح میں 45 فیصداضافہ

299

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی پابندیاں ایران کی معیشت پر انتہائی خراب اثرات مرتب کر رہی ہیں اور ریکارڈ افراط زر نے ملک میں صارفین کو اپنی خوراک سے گوشت اور دودھ کی خرید میں کمی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ لوگ جو پہلے گراسری اسٹورز سے بڑی مقدار میں اشیائے خورد و نوش خریدتے تھے، اب ایک وقت کا کھانا چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایران کی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں انتہائی گراوٹ کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کی تنخواہوں اور بچتوں میں کمی ہو رہی ہے۔ مہنگائی کی شرح 45 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کے نتیجے میں عائد پابندیاں بھی معیشت میں بگاڑ کی ایک وجہ ہے۔ دوسری جانب ملک کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں سامان کی فراہمی میں رکاوٹوں اور مقامی پیداوار میں مسلسل کمی بھی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ تہران کے 2015ء کے ایٹمی معاہدے کے وقت ایک امریکی ڈالر کے 32 ہزار ایرانی ریال ملتے تھے۔ اب یہ شرح تقریباً دو لاکھ سے زیادہ ریال تک پہنچ چکی ہے۔ ایران کی مجموعی قومی پیداوار میں 2017ء سے 2020ء تک کے عرصے کے دوران لگ بھگ 60 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ چیمبر آف کامرس کے سربراہ غلام حسین شفیع نے گزشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں اس کمی کو ایران کی معیشت کے لیے سنگیں خطرہ قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران میں لوگ اپنے سرمائے کو بے وقعت تصور کر رہے ہیں۔