عدالت عظمیٰ ،ملک میں صدارتی نظام لانے کی درخواستیں خارج

134

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ نے ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے سے متعلق درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔ معاملے کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ کیا درخواست گزار اس معاملے میں متعلقہ فریق بھی ہے کہ نہیں؟ کیا یہ درخواستیں بنیادی انسانی حقوق سے متعلق کوئی ٹھوس بات کرتی بھی ہیں کہ نہیں؟ عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ ملک میں طاقتور سیاسی جماعتیں موجود ہیں ان کی موجودگی میں آپ کیوں آئے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آئین کے آرٹیکل 46 کے تحت وزیراعظم ریفرنڈم کے لیے معاملہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھتے ہیں‘ کیا یہ معاملہ ابھی تک وزیراعظم یا پارلیمان کے سامنے آیا بھی ہے کہ نہیں‘ یا پھر کیا صرف فرد واحد کی خواہش ہے؟ درخواست میں سیاسی سوال ہے جو عدالت سے متعلقہ نہیں۔ جسٹس منیب اختر نے احمد رضا قصوری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آئین بن رہا تھا اور آپ رکن پارلیمنٹ تھے اس وقت آپ نے پارلیمانی نظام حکومت کی مخالفت کیوں نہیں کی؟درخواست گزار احمد رضا قصوری نے موقف اپنایا کہ سیاستدان اگر ملک کے مفاد اور فلاح کا نہیں سوچتے تو کیا میں بھی خاموش ہو جاؤں‘ میں نے تو اس وقت بھی آئین کی دستاویز کی مخالفت کی تھی ۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت کو غیر متعلقہ معاملات میں مت اُلجھائیں۔