ؒافکار سید ابو الا علیٰ مودودی

488

تدوین قرآن
رسول اللہؐ نے اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت قرآن پاک کو جس حالت میں چھوڑا تھا وہ یہ تھی کہ اپنی مکمل اور مرتب صورت میں وہ صرف ان حافظوں کے سینوں میں محفوظ تھا جنہوں نے حضورؐ سے سیکھ کر از اول تا آخر یاد کیا تھا۔ تحریری شکل میں آپؐ نے اس کا لفظ لفظ لکھوا ضرور دیا تھا، مگر وہ متفرق پارچوں پر لکھا ہوا تھا۔ جنہیں ایک مسلسل کتاب کی صورت میں مرتب نہیں کیا گیا تھا۔ بعض صحابہؓ نے اس کے کچھ اجزاء اپنے طور پر لکھ لیے تھے، مگر کسی کے پاس پورا قرآن لکھا ہوا نہ تھا۔ بہت سے لوگوں نے قرآن کے مختلف حصے یاد بھی کر رکھے تھے، لیکن ان اصحاب کی تعداد بہت کم تھی جنہیں حضورؐ کی سکھائی ہوئی ترتیب کے ساتھ پورا قرآن یاد تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سیدنا ابوبکرؓ کے زمانے میں جب حفاظ کی ایک اچھی خاصی تعداد لڑائیوں میں شہید ہوگئی تو سیدنا عمرؓ نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ اگر قرآن کے حافظ اسی طرح شہید ہوتے رہے اور امت کے پاس صرف متفرق حالت میں لکھا ہوا یا جزوی طور پر یاد کیا ہوا قرآن ہی رہ گیا تو اس کا بڑا حصہ ضائع ہوجائے گا، کیونکہ وہ اپنی مکمل ترتیب کے ساتھ صرف ان حافظوں کے سینوں ہی میں محفوظ تھا۔
٭…٭…٭
ایک مصحف
اس اندیشے کی بنا پر جب سیدنا عمرؓ نے صدیق اکبرؓ کو پورا قرآن ایک مصحف کی شکل میں یکجا تحریر کرادینے کا مشورہ دیا تو انہوں نے اول اول یہ شبہ ظاہر کیا کہ میں وہ کام کیسے کرسکتا ہوں جو رسول اللہؐ نے نہیں کیا ہے۔ اور یہی شبہ سیدنا زیدؓ بن ثابت نے اس وقت ظاہر کیا جب شیخین نے انہیں جمع قرآن کی خدمت انجام دینے کے لیے کہا۔ دونوں بزرگوں کے شبہے کی بنیاد یہ تھی کہ قرآن کی حفاظت کے لیے حفاظ کے حفظ پر اعتماد کرنا اور ایک مصحف کی شکل میں اسے یکجا لکھوا دینے کا اہتمام نہ کرنا رسول اللہؐ کی سنت ہے۔ اب ہم اس سنت کو بدلنے کے کیسے مجاز ہوسکتے ہیں؟ مگر جس چیز نے بالآخر انہیں مطمئن کردیا وہ سیدنا عمرؓ کی یہ بات تھی کہ دین و ملت کی بھلائی اسی کام کو انجام دینے میں ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر اس بنیاد پر سنت سے ہٹ کر ایک کام کرنے کی شریعت کے اندر کوئی گنجائش نہ ہوتی تو صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ اسے جائز کیسے رکھ سکتے تھے، اور ساری امت اس کے صحیح ہونے پر متفق کیسے ہوسکتی تھی۔
٭…٭…٭
قرآن کی سات قرأتیں
قرآن دراصل تو قریش کی زبان میں نازل ہوا تھا اور ابتدائی حکم یہی تھا کہ اس زبان میں اس کو پڑھا اور پڑھایا جائے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا وعدہ بھی اسی کے بارے میں تھا۔ لیکن ہجرت کے بعد حضورؐ کی درخواست پر قریش کی زبان کے علاوہ عرب کی دوسری چھ بڑی زبانوں میں اس لیے قرآن نازل کیا گیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اسلام قبول کرنے والوں کو اپنے اپنے علاقوں کے تلفظ اور محاورے کے مطابق اسے پڑھنے میں سہولت ہو۔ یہ ایک رعایت تھی جو وقتی طور پر اشاعت قرآن میں آسانی پیدا کرنے کی غرض سے دی گئی تھی۔ اس کو ہمیشہ کے لیے برقرار رکھنا مقصود نہ تھا اور نہ اس کا منشا یہ تھا کہ قرآن عرب کی سات زبانوں میں دنیا تک پہنچایا جائے۔ لیکن بہرحال یہ امر واقعہ ہے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رعایت دی گئی تھی وہ رسول اللہؐ کے عہد مبارک میں آخر وقت تک باقی رہی اور اسے منسوخ کرنے کا کوئی حکم نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور نہ رسول اکرمؐ کی زبان مبارک سے سنا گیا۔ اس رعایت کو سیدنا عثمانؓ نے اس وقت منسوخ کیا جب یہ دیکھا گیا کہ سات زبانوں میں قرآن مجید کی مختلف قرآتیں لوگوں کے لیے، اور خصوصاً غیر عرب نو مسلموں کے لیے، سخت فتنے کی موجب بن گئی ہیں۔ اس لیے امت کو فتنے سے اور کتاب الٰہی کو اختلاف سے محفوظ رکھنے کی خاطر امیر المومنین نے فیصلہ کیا کہ صرف قریش کی زبان میں قرآن پاک کے نسخے لکھا کر دنیائے اسلام کے مراکز میں پھیلا دیے جائیں اور وہ تمام نسخے جلا ڈالے جائیں جو دوسری چھ زبانوں کے مطابق لکھے گئے ہوں تا کہ کبھی کوئی دشمن دین قرآن میں شبہات پیدا کرنے کے لیے ان کو استعمال نہ کرسکے۔ ظاہر بات ہے کہ سات نازل شدہ حرفوں میں سے چھ کو منسوخ کردینا ایک بہت بڑا اقدام تھا۔ اگر شریعت میں اس کی گنجائش نہ ہوتی تو نہ سیدنا عثمانؓ ایسا اقدام کرسکتے تھے اور نہ پوری امت اسے قبول کرسکتی تھی۔
(ترجمان القرآن، نومبر 1975)