اسلام آباد (آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کے فیصلے کیخلاف اپنی دائر درخواست پر رجسٹرار عدالت عظمیٰ کے اعتراضات پر عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کردی۔ منگل کو یہاں عدالت عظمیٰ میں ایف بی آر کی جانب سے
دائر اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایف بی آر کو سنے بغیر 26 اپریل 2021ء کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کا فیصلہ دیا گیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ لندن کی3جائدادوں کی وضاحت نہیں کر سکیں، سرینہ عیسیٰ ایف بی آر کے متعدد نوٹسز کے باوجود رقوم کی بیرون ملک منتقلی پر بھی وضاحت نہیں دے سکیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کا فیصلہ غیر قانونی ہے، عدالت سے استدعا کے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کے فیصلے کیخلاف دائر ایف بی آر کی اپیل پر رجسٹرار عدالت عظمیٰ کے اعتراضات ختم کیے جائیں ،ایف بی آر کی اپیل کو پہلی نظرثانی اپیل کے طور پر سماعت کے لیے منظور کیا جائے۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے رواں سال 26 اپریل کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دائر نظر ثانی کیس کا مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا تھا ،جس میں عدالت عظمی نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے اہل خانہ کی جائدادوں سے متعلق ایف بی آر کو معاملہ بھیجنے کا 19 جون 2020 ء کا عدالتی حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ایف بی آر کی رپورٹ اور کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ فائز عیسیٰ کیس میںایف بی آر کی تمام رپورٹس، مواد، فیصلے اور اقدامات قانون کے دائرے سے خارج قرار دیے جاتے ہیں۔