شوکت صدیقی نے اپنے منصب کو نہیں سمجھا،عدالت عظمیٰ

373

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ کے برطرف جج کی بحالی سے متعلق کیس میں عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر میں عدلیہ کو بدنام کیا، شوکت صدیقی نے اپنے منصب کو نہیں سمجھا،وفاقی حکومت نے ریاستی اداروں پر الزامات کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا۔ عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ نے شوکت عزیز صدیقی کی عہدے پر بحالی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے دلائل میں کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے شوکت عزیز صدیقی کے موقف پر اپنا جواب جمع کروانا چاہتے ہیں،شوکت صدیقی کی جانب سے بعض افسران پر لگائے گیے الزامات کی تردید کرتے ہیں، افسران پر لگائے گئے الزامات من گھڑت بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔وکیل صفائی حامد خان نے کہا کہ اپنے موقف پر میں نے بیان حلفی جمع کروانے کی کوشش کی،میری اضافی دستاویزات رجسٹرار آفس نے اعتراض لگا کر واپس کر دی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہادرخواست قابل سماعت ہونے کے حوالے سے پہلے اپنے دلائل مکمل کرلیں، اپنے دلائل کوآرٹیکل 211 کیساتھ کیسے جوڑیں گے۔3 سماعتیں ہونے کے باوجود ابھی تک درخواست کو قابل سماعت ہونے کے حوالے سے ہی دلائل سن رہے ہیں،چھٹیوں میں تمام 5ججز کے اسلام آباد میں ہونے کی گارنٹی نہیں۔ ریمارکس دیے کہ آپ نے پبلک میں جا کر تقریر کی،آپ نے اپنی تقریر میں عدلیہ کے ادارے پر الزامات عاید کیے اور اسے بد نام کیا،بطور جج حلف اور ضابطہ اخلاق میں شامل ہے کہ آپ عدلیہ کا تحفظ کریں گے،لیکن آپ نے جسٹس منیر کی تاریخ بیان کرتے کرتے موجودہ دور میں دیانتداری سے کام کرنے والے ججز کو بھی مورود الزام ٹھہرا دیا۔ ایڈووکیٹ حامد خان نے کہا کہ وہ جسٹس صدیقی کی رائے تھی جسے انکوائری کے بعد ثابت ہونا تھا،جسٹس صدیقی کی یہ ہی استدعا تھی کی انکوائری کروائی جائے،ہر شخص تاریخ کی تشریح اپنے نکتہ نظر سے کرنے کا مجاز ہے،محض کسی کو اس کی رائے کی بنیاد پر برطرف نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے کیس کی سماعت آج11بجے تک ملتوی کردی ہے۔