شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا،ن لیگ کا شدید رد عمل

155

لاہور(نمائندہ جسارت)ایف آئی اے امیگریشن حکام نے شہباز شریف کو سسٹم میں بلیک لسٹ ہونے کے باعث دوحا جانے والی پرواز سے آف لوڈ کردیا۔صدر مسلم لیگ(ن)شہباز شریف کو لاہور سے دوحا جانے سے قبل ائرپورٹ پر موجود ایف آئی اے امیگریشن اہلکار نے انہیں روک کر دوحا جانے والی پرواز سے آف لوڈ کردیا،جس کے بعد وہ ائرپورٹ سے واپس اپنی رہائشگاہ ماڈل ٹائون پہنچ گئے۔شہباز شریف نے ائرپورٹ پر امیگریشن اہلکار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر ہے اور ون ٹائم ٹریول کی اجازت دی گئی ہے، جس پر انہیں بتایا گیا کہ امیگریشن سسٹم پر کلیئرنس اپ ڈیٹ ہونے تک آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے شہباز شریف کا نام تاحال بلیک لسٹ سے نہیں نکالا گیا، سسٹم میں کلیئرنس جاری نہیں ہوئی ، امیگریشن سسٹم میں اپ ڈیٹ نہ ہونے سے انہیں آف لوڈ کردیا گیا لہٰذا نام کلیئر ہونے پر جہاز میں سوار ہونے کی اجازت دی جائے گی۔دریں اثنا(ن)لیگ کی مر کزی نائب صدر مریم نواز نے شہباز شریف کو ائرپورٹ پر روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی حکومت نے ڈھٹائی سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے ۔ ایک ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف کو باہر جانے سے روکنے پر جعلی حکومت کا اصل چہرہ سامنے آگیا ہے ،انہوں نے ڈھٹائی سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ، شہباز شریف کو ائرپورٹ پر روکنا ثابت کرتا ہے کہ سلیکٹڈ شہباز شریف سے کتنا ڈرتا ہے۔دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کا (ن) لیگ کے صدر اور قومی اسمبلی میںاپوز یشن لیڈر شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا مصدقہ تحریری حکم وفاقی سیکرٹری داخلہ کو بھجوا دیا گیا۔تحریری حکم کی مصدقہ کاپی ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی امیگریشن کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔شہباز شریف کی لیگل ٹیم کی موجودگی میں لاہور ہائی کورٹ کا تحریری حکم عدالت کی ڈسپیچ برانچ کے ذریعے متعلقہ اداروں کو بھجوایا گیا۔ادھرشہباز شریف کے وکلا نے عدالتی حکم میسنجر کے ذریعے وزارت داخلہ کو بھجوانے کی استدعا کر دی تاہم لاہور ہائی کورٹ نے میسج کے ذریعے حکم بھجوانے کی استدعا مسترد کر دی۔لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار نے کہا کہ تحریری حکم میں نہیں لکھا کہ حکم میسنجر سے بھجوایا جائے۔لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو ایک بار8ہفتے کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے رکھی ہے۔