آئی سی سی قوانین اپنی جگہ،فخر کی ڈبل سنچری اور پاکستان کی شکست کا ازالہ کون کرے گا

325

کراچی (سید وزیر علی قادری)پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں فخر زمان کے رن آئوٹ ہونے پر دنیائے کھیل سے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ آئی سی سی قوانین میں اس قسم کی صورتحال پر شق کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ تاہم ابھی تک عالمی کرکٹ کی تنظیم نے اس سلسلے میں چپ سادھ رکھی ہے۔ زرائع کے مطابق قومی ٹیم مینجمنٹ نے فخر زمان کے رن آئوٹ کا معاملہ میچ ریفری کے سامنے اٹھا یا ہے ۔پاکستان ٹیم مینجمنٹ نے میچ کے اختتام پرفخر زمان کے رن آئوٹ کے معاملے پرمیچ ریفری سے بات کی اور اس سلسلے میں قومی ٹیم کے مینجر منصور رانا نے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ سے زبانی بات چیت کی۔ذرائع کا کہناہے کہ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ تحریری طور پر شکایت نہیں کی گئی اور صرف مینجمنٹ یہ معاملہ میچ ریفری کے علم میں لائی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز فخر زمان کا رن آئوٹ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا اور اکثر نے رائے دی کہ ڈی کوک نے فخر کی توجہ ہٹائی۔جنوبی افریقا کے ساتھ دوسرے میچ میں پاکستانی اوپنر فخر زمان نے 193رنز کی شاندار اننگز کھیلی تاہم اس کے باوجود وہ ٹیم کو فتح نہ دلواسکے۔فخر زمان کے متنازع رن آئوٹ پر غیر ملکی کرکٹرز نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔کوئن ٹن ڈی کوک کے رویے کو کرکٹ فینز کے ساتھ ساتھ دیگر کرکٹرز اور مبصرین نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ویسٹ انڈین کرکٹر شیرفین ردرفورڈ نے لکھا کہ کیا ڈی کوک کو قانون میں چیٹنگ کی اجازت ہے؟جینٹلمین گیم کے ساتھ ایسا نہ کریں۔کرکٹ کمینٹیٹر ایلن ولکنس نے بھی ڈی کوک کے عمل پر مایوسی کا مظاہرہ کیا۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس نے بھی فخر کی اننگز کی تعریف کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ اتنی شاندار اننگز کے بعد ڈی کوک کی طنزیہ مسکراہٹ کا کیا مقصد تھا۔دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین فخر زمان کا کوئنٹن ڈی کوک کے جھانسے میں آکر رن آئوٹ ہونے پر کہنا ہے کہ ان کے آئوٹ ہونے میں زیادہ غلطی ان کی اپنی ہی ہے۔فخر زمان نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں رن آئوٹ ہونے پر خود کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ یہ میری ہی غلطی ہے کہ میں نے فیلڈر کو نہ دیکھا۔ تاہم مبصرین و ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی قوانین اپنی جگہ، فخر کی ڈبل سنچری اور پاکستان کی شکست کا ازالہ کون کرے گا؟