
لاہور/اسلام آباد (نمائندگان جسارت+ صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے خواتین کو حق وراثت، حق ملکیت، حق نکاح ، حق تعلیم وملازمت دینے کا حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عورت کی محرومی اور مفلوک الحالی کے خاتمے کا واحد حل اسلام کے زریں اصولوں پر پاکستانی معاشرے کی تعمیر ہے۔ مال روڈ پر عالمی یوم خواتین کے موقع پر جماعت اسلامی خواتین ونگ کی جانب سے نکالی گئی ‘‘استحکام خاندان’’ ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستانی معاشرے میں گنے چنے لوگوں کی جانب سے حقوق خواتین کے نام پر مغربیت پھیلانے کے کلچر کی حوصلہ شکنی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اسلامی نظریاتی اساس کے خلاف سازشیں آزادی کے فوری بعد شروع ہوگئی تھیں جن میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی اور پاکستان کے کروڑوں افراد جن کے آباؤ اجداد نے مملکت اسلامی کے حصول کے لیے جان ومال کی قربانیاں دیں ،نام نہاد مغربی نظریات اوران کی ترویج کو ہرگز قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے ان عوامل پرجو پاکستان کے اسلامی معاشرے میں عورت کی پسماندگی کا باعث بن رہے ہیں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عورت کی آزادی کامطلب اسے تعلیم و صحت کی سہولتوں اور روزگار کے مواقع کی فراہمی اور اس کی عزت و ناموس کا تحفظ ہے ناکہ شرم و حیا اور حرمت کا خاتمہ۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے باوجود ملک میں ونی،قرآن سے شادی اور کاروکاری جیسی فرسودہ رسوم موجود ہیں۔ جہیز کی لعنت کا خاتمہ نہیں ہوا۔ غریب کی بیٹی جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہے۔ خواتین کو تعلیمی اور کام کرنے والے اداروں میں ہراساں کیا جاتا ہے ۔ بچیوں اور خواتین کی عصمت دری کے لرزہ خیز واقعات ہوتے ہیں اور ظالم تھانوں اور عدالتوں سے بچ نکلتے ہیں۔ ایسے عناصر کو آج تک نشان عبرت نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچیوں کی تعلیم کے لیے وفاق اور صوبوں میں خصوصی بجٹ مختص کیا جائے۔ خواتین کو اسلامی اصولوں کے مطابق نکاح کا حق دیا جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی نظام میں خواتین کا استحصال ہورہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے دین کی ترویج واشاعت کے لیے خواتین کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ظہوراسلام سے لے کر آج تک عظیم مسلمان خواتین جن میں امہات المومنین، نبی رحمت ؐکی صاحبزادیاں اور صحابہ ؓ کی بیویاں، بیٹیاں ، بہنیں اور مائیں شامل تھیں، نے ہر میدان میں قربانیاں دیں یہی وجہ ہے کہ دین ہم تک پہنچا۔ انہوں نے قیام پاکستان کے لیے بھی محترمہ فاطمہ جناح اور دیگر خواتین کی عظیم قربانیوں کا ذکر کیا اور پاکستانی عورت سے اپیل کی کہ وہ ان کے نقش قدم کو اپنانے ہوئے ملک وملت کی ترقی کے لیے کردار ادا کریں۔ سراج الحق نے علما سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے دروس اور خطبات جمعہ میں عورت کی عظمت و تقدس پر بات کریں اور مغربی کلچر کے قلع قمع کے لیے کردار ادا کریں۔ لاہور میں استحکام خاندان ریلی سے سراج الحق کے خطاب کے موقع پر امیر جماعت وسطی پنجاب جاوید قصوری ،سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان قیصر شریف ، ڈپٹی سیکرٹری پنجاب وسطی نصراللہ گورائیہ ،امیر ضلع لاہور ذکراللہ مجاہد ، نائب امیر لاہور چودھری محمودالاحد اور جماعت اسلامی امور خواتین کے ذمے دار وسیم اسلم قریشی بھی موجود تھے۔ استحکام خاندان ریلی کا آغاز ناصر باغ سے ہوا جو انارکلی پر ختم ہوئی۔ ریلی کی قیادت جماعت اسلامی خواتین کی رہنما ڈاکٹر سمعیہ راحیل قاضی ، ناظمہ ضلع لاہور ڈاکٹر زبیدہ جبین اور دیگر نے کی۔ ریلی میں خواتین اور بچیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شرکا نے قومی و جماعت اسلامی کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ بینرز اور کتبوں پر استحکام خاندان کے حق میں اور عریانیت کے کلچر کے خلاف نعرے درج تھے۔ عالمی یوم خواتین کے موقع پر جماعت اسلامی خواتین ونگ کی جانب سے کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔ جن میں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والی ہزاروں خواتین ، تعلیمی اداروں کی بچیوں اور ورکنگ ویمن نے شرکت کی۔ جماعت اسلامی کی جانب سے استحکام خاندان مہم کا آغاز 11فروری کو کیا گیا تھا جو ایک ماہ تک جاری رہے گی۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عالمی یوم نسواں کے موقع پر جماعت اسلامی کے تحت خواتین نے میلوڈی سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد تک واک کی گئی، واک کی قیادت سابق پارلیمنٹیرین عائشہ سید، بلقیس سیف، جماعت اسلامی شعبہ خواتین کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سکینہ شاہد نے کی، حجاب پہنے باپردہ خواتین کی اس واک کا غیر معمولی منظر تھا، اسکولوں کی بچیوں، کالجز کی طالبات نے بھی حجاب اور چادریں پہنیں اس واک میں شرکت کی، طالبات نے مختلف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا مضبوط خاندان محفوظ عورت، مستحکم معاشرہ، حجاب میں حیا ہے، آزادی نہیں مضبوط بندھن، تشدد نہیں محبت، حجاب ہمارا مستقبل، حیا ہمارا سرمایہ، عورت گھر کی زینت ہے ، مومن عورتیں اسلام کی شہزادیاں ہیں، عورت کا حسن اس کی حیا ہے، میرا شوہر میری عزت،والدین جنت ہیں، گھر اور خاندان کا تحفظ دونوں کی ذمے داری عورت کی حفاظت مرد کی ذمے داری اور دیگر نعرے درج تھے۔ سیکڑوں خواتین اس واک میں شریک تھیں اور یہ عالمی یوم نسواں کے موقع پر غیر معمولی سرگرمی بن گئی تھی۔ نیشنل پریس کلب کے سامنے جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد کے امیر نصر اللہ رندھاوا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے اس کے اسلامی تشخص اورشناخت پر جماعت اسلامی کوئی آنچ نہیں آنے دے گی، خواتین کا تحفظ معاشرے کی اجتماعی ذمے داری ہے۔کسی مارچ کے نام پر مٹھی بھر خواتین قطعاً پاکستانی معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتیں ۔ ہمیں اپنے خاندانی نظام پر فخر ہے۔دریں اثنا جامعہ حفصہ کی سیکڑوںبرقع پوش خواتین نے آبپارہ میں سڑک پر تقریب منعقد کی،پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ کا عزم کیا۔ طالبات نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جس میں پاکستان کی خواتین کی حقیقی نمائندگی اورحیثیت کی عکاسی کی گئی تھی ۔ تقریب میں اسلامی نظمیں پڑھی جاتی رہیں۔