بلدیہ کے بعد واٹر بورڈ میں بھی سندھ گورنمنٹ کے افسران کا تقرر

503

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) حکومت سندھ نے بلدیہ عظمیٰ کے بعد کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی مختلف اسامیوں پر بھی سندھ گورنمنٹ کے مختلف محکموں کے افسران کا تقرر کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ تقرریاں حیرت انگیز طور پر عدالت عظمیٰ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جا رہی ہیں۔ خیال رہے کہ چند روز قبل کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ریونیو و ریکوری کی حیثیت سے حکومت سندھ کے محکمہ منرل اینڈ مائنز کے گریڈ 19 کے افسر عبدالنبی میمن کو تعینات کر دیا گیا ، حالانکہ عدالت عظمیٰ نے کسی بھی محکمے کے کسی بھی گریڈ کے افسر کے ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر تقرر کو قانون قرار دیا ہوا ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں 1992ء تک کراچی کا ڈومیسائل رکھنے والے افراد کو ملازمت فراہم کی جاتی تھی تاہم بعد ازاںمتحدہ قومی موومنٹ کے دور حکمرانی میں یہ شرط ختم کر دی گئی تھی جس کے بعد اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی ملازمتیں فراہم کی جاتی رہیں جس کے وجہ سے کراچی کے لوگ اسی ادارے میں ملازمت حاصل کرنے سے محروم رہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ریونیو و ریکوری کی جس اسامی پر منرل اینڈ مائنز ڈیپارٹمنٹ کے افسر کو تعینات کیا گیا وہ گریڈ بیس کی اسامی ہے جس پر واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے قوانین کے تحت صرف واٹر بورڈ کے افسران کا تقرر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن موجودہ صوبائی حکومت کے دور میں یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ نہ صرف عدالت عظمیٰ کے احکامات بلکہ دیگر قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند افسران کی تقرریاں اور تعیناتیاں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اپنے بے تحاشا ملازمین وہ افسران کی حق تلفی ہو رہی ہیں۔ واٹر بورڈ ہی نہیں بلدیہ عظمیٰ کراچی میں بھی اعلیٰ افسران کی اہم اسامیوں پر غیر مقامی افسران کی تعیناتی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں صوبائی کابینہ کی ایک اہم شخصیت نے بتایا کہ گریڈ 18 اور 19 کے افسران کی تقرریاں چیف سیکرٹری سندھ کے دستخط سے کی جاتی ہیں اور ایسی تقرریوں کو متعلقہ ادارے کے چیف ایگزیکٹو مسترد بھی کرسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ڈی ایم ڈی ریونیو ریکوری کی اسامی پر واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے سینئر و قابل افسر وقار ہاشمی تعینات تھے جنہوں نے مختصر مدت میں ادارے کی ماہانہ ریکوری میں غیر معمولی اضافہ کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے حکومت سندھ کے حکم پر مذکورہ اسامی پر پوسٹ کیے جانے والے افسر چونکہ کسی بھی شہری ادارے میں خدمات کا تجربہ نہیں رکھتے اس لیے خدشہ ہے کہ واٹر بورڈ کی ماہانہ آمدنی میں غیر معمولی کمی واقع ہو جائے گی۔