ای او بی آئی نے اپنے ہی ملازم کی پنشن بند کردی

607

رپورٹ: قاضی سراج
ای او بی آئی کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد ای او بی آئی ایمپلائیز پنشن اینڈ گریجویٹی ریگولیشنز مجریہ 1987 کے تحت تاحیات پنشن ادا کی جاتی ہے۔ پنشن کی بندش کا شکار شیخ محمد یونس سابق ڈائریکٹر آئی ٹی ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کا شمار ای او بی آئی کے بانی ملازمین میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اگست 1979 میں ادارہ میں جونیئر افسر کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے وقت شیخ محمد یونس ای او بی آئی انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ صدر دفتر میں سینئر پروگرامر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ شیخ محمد یونس نے اپنی تکنیکی مہارت اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت ادارہ کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق تشکیل دینے اور ادارہ کے ڈیٹا بیس کی تنظیم اور ترقی کے لیے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اسی لیے شیخ محمد یونس کو ای او بی آئی کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کا معمار بھی کہا جاتا ہے۔ شیخ محمد یونس 10مارچ 2010 کو ادارہ میں 31 برسوں تک شاندار خدمات انجام دینے کے بعد ملازمت سے ریٹائر ہوگئے تھے اور ای او بی آئی نے حسب ضابطہ آفس آرڈر نمبر252/2011 بتاریخ 2 اگست 2011 کے ذریعہ شیخ محمد یونس کے لیے ماہانہ پنشن کی منظوری دیدی تھی۔ لیکن ریٹائرمنٹ کے کچھ عرصہ بعد شیخ محمد یونس یاد داشت سے محرومی سمیت مختلف پیچیدہ امراض کا شکار ہوگئے تھے اور ڈاکٹروں نے انہیں Dementia کی بیماری کی تشخیص تھی، جس میں انسان اپنے ہوش و حواس سے بالکل بیگانہ ہوجاتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث شیخ محمد یونس سخت نگہداشت میں اپنے گھر ہی میں محدود زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ چند برس قبل اہل خانہ کی نظر چوک جانے کے باعث وہ گھر سے کہیں نکل کر لاپتا ہو گئے تھے اور کئی دنوں کی تلاش بسیار کے بعد ان کا سراغ مل سکا تھا۔ جب سے شیخ محمد یونس کو انتہائی نگرانی میں گھر کے ایک حصہ تک محدود رکھا گیا ہے اور اہل خانہ ہر دم ان کی نگرانی اور نگہداشت میں مصروف رہتے ہیں۔ شیخ محمد یونس کھانے پینے، لباس، غسل اور حوائج ضروریہ کے لیے بھی اہل خانہ کے محتاج ہوگئے ہیں۔ لیکن شیخ محمد یونس کی دکھ بھری زندگی کے مسائل کے باوجود ای او بی آئی کی موجودہ انتظامیہ کی ہدایت پر نزہت اقبال نامی ڈپٹی ڈائریکٹر ایچ آر ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس نے انتہائی سنگدلی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچانک ایک آفس آرڈر نمبر212/2019 بتاریخ 19 دسمبر 2019 کے ذریعہ شیخ محمد یونس کی پنشن بند کردی۔ جس کے باعث شیخ محمد یونس کے اہل خانہ سخت ذہنی کرب اور مالی پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اچانک پنشن بند ہوجانے کے باعث انہیں شیخ محمد یونس کی دیکھ بھال کے لئے رکھے گئے میڈیکل اٹینڈنٹ کو بھی فارغ کرنا پڑا اور ان میں شیخ محمد یونس کے مہنگے علاج و معالجہ کے لئے مہنگی ادویات خریدنے کی سکت بھی باقی نہ رہی ہے۔ اپنے معمر اور محتاج شوہر کی اس ناگفتہ بہ صورت حال کے پیش نظر شیخ محمد یونس کی اہلیہ نادرہ یونس گزشتہ ایک برس سے اپنے شوہر کی بند پنشن بحال کرانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اسی دوران ان کی جانب سے بحالی پنشن کے
لیے دی گئی درخواست کے جواب میں اسی نزہت اقبال نامی ڈپٹی ڈائریکٹر ایچ آر ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس نے اپنے جوابی خط میں یہ عجیب و غریب انکشاف کیا کہ شیخ محمد یونس پنشن کے اہل نہیں تھے اور انہیں غیر قانونی طور سے پنشن جاری کی گئی تھی۔ کیونکہ ان کی پنشن کا کیس بورڈ آف ٹرسٹیز منظور نہیں کرایا گیا تھا۔ لہٰذا ان وجوہات کی بناء پر شیخ محمد یونس کی پنشن بند کردی گئی ہے۔ اپنے شوہر کی پنشن کی مسلسل بندش اور ای او بی آئی انتظامیہ کی بے حسی سے تنگ آکر شیخ محمد یونس کی اہلیہ نادرہ یونس نے جو خود بھی بزرگ خاتون اور مختلف امراض میں مبتلا ہیں کسی نہ کسی طرح انتظام کرکے اپنے بیمار اور محتاج شوہر شیخ محمد یونس کے ہمراہ ذاتی طور پر چیئرمین ای او بی آئی اظہر حمید سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں ادارہ کی جانب سے گزشتہ 10 برسوں سے جاری پنشن کے اچانک بند ہوجانے کے سنگین انسانی مسئلہ سے آگاہ کرتے ہوئے شیخ محمد یونس کی جسمانی اور طبی کیفیت اور درپیش مالی پریشانیوں کی حالت زار بیان کی اور ان کی پنشن کی فوری بحال کا مطالبہ کیا۔ جس پر چیئرمین نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لی کہ شیخ محمد یونس کی پنشن کی بحالی کا معاملہ ان کے دائرہ ختیار سے باہر ہے اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملہ کو منظوری کے لیے بورڈ آف ٹرسٹیز کے آئندہ اجلاس کے سامنے پیش کریں گے۔ لیکن چیئرمین ای او بی آئی کا یہ وعدہ ادارہ کے ملازمین سے کئے گئے دیگر وعدوں کی طرح آج تک ایفاء نہیں ہوسکا ہے۔
ای او بی آئی کے چیئرمین کی وعدہ خلافی سے تنگ آکر شیخ محمد یونس کی اہلیہ نادرہ یونس نے حصول انصاف کے لیے مجبوراً ادارہ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر اور وفاقی سیکرٹری منسٹری آف اوورسیز پاکستانی اینڈ ہیومن ریسورسز ڈیولپمنٹ اسلام آباد ڈاکٹر محمد ہاشم پوپلزئی اور وفاقی محتسب اسلام آباد کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ لیکن چیئرمین ای او بی آئی کی طرح وفاقی سیکریٹری صاحب نے مجبور و بے کس ریٹائرڈ ملازم شیخ محمد یونس کی فریاد کا جواب تک دینا گوارہ نہ کیا، جبکہ اس کے برعکس وفاقی محتسب کراچی آفس نے شیخ محمد یونس کی اہلیہ کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ای او بی آئی کی انتظامیہ اور شیخ محمد یونس کو ذاتی طور پر طلب کرلیا۔ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ اور مختلف امراض میں مبتلا شیخ محمد یونس اپنی بیمار اہلیہ کے ہمراہ اس امید پر وفاقی محتسب کے ڈائریکٹر کے سامنے پیش ہوگئے کہ شائد ان کے حکم پر ان کی ایک برس سے رکی ہوئی پنشن بحال ہوجائے۔ لیکن وفاقی محتسب کا ادارہ جو سرکاری اداروں سے ستائے ہوئے مظلوموں کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کا دعویدار ہے، تاحال شیخ محمد یونس کی پنشن کی بحالی کے لیے کسی فیصلہ میں ناکام نظر آتا ہے۔ جبکہ شیخ محمد یونس کی حالت دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے۔ اس صورت حال سے مایوس ہوکر شیخ محمد یونس کی اہلیہ نادرہ یونس نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ ای او بی آئی کے محکمہ کی ترقی میں میرے شوہر کا اہم کردار رہا ہے۔ لیکن افسوس آج ہم اپنے بیمار اور محتاج شوہر کی پنشن کی بحالی کے لیے مارے مارے پھر نے پر مجبور ہیں اور ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔