سیاستدانوں ، سول اور ملٹری بیوروکریسی کی نااہلی سے پاکستان 2 ٹکڑے ہوا، سراج الحق

648

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سیاستدانوں ، سول اور ملٹری بیوروکریسی کی نااہلی کی وجہ سے پاکستان کے2 ٹکڑے ہو گئے ۔ آستین کے سانپوں کے ساتھ ساتھ استعماری قوتوں کی سازشوں نے 16 دسمبر 1971 ء کو پاکستان کو دو لخت کردیا ۔ اب بھی ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور اس کی نظریاتی شناخت کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اسلامی نظام حکومت ہی پاکستان کی سلامتی کا ضامن ہے ۔ حکومت سازی کے لیے شفاف جمہوری نظام قائم کرنا ہوگا ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے یوم سقوط ڈھاکا کے موقع پر اپنے ایک بیان اور ضلع گلبرگ وسطی فیڈرل بی ایریا کراچی میں تنظیمی دورے کے موقع پر کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ 1958 ء سے لے کر 1970ء کے مارشل لا ز نے ملک کو شدید عدم استحکام کا شکار کیا جس کی وجہ سے عالمی استعمار، جس نے پاکستان کے وجود کو اس کے قیام سے لے کر اب تک تسلیم نہیں کیا تھا ، کو موقع مل گیا کہ اپنے ناپاک منصوبوں کو حقیقت کاروپ دے ۔اس کے ساتھ ساتھ آستین کے سانپوں نے بھی استعمار کا ساتھ دیا ۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور 70 ء کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہ کرنا بھی سانحہ مشرقی پاکستان کا باعث بنا ۔ حکمرا ن طبقے نے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی اور نظریہ پاکستان کے ساتھ غداری کی ۔ امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اقتدار کے ایوانوں پر قابض اشرافیہ نے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھی اپنی ڈگر نہیں بدلی اور ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا ۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، غربت ، بے روزگاری اب بھی عوام میں احساس محرومی کو فروغ دے رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ افراد اور خاندانوں کے بجائے ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرناہوگی ۔ گزشتہ 73 برس میں ملک میں ہر طرح کے طرز حکمرانی کے تجربات کیے گئے لیکن عوام کے مسائل جوں کے توں رہے ۔ اب اسلامی نظام کا نفاذ کرنا ہوگا جس کی بنیاد پر کروڑوں مسلمانوں نے الگ ملک کے لیے جدوجہد کی تھی ۔ انہوںنے کہاکہ دھونس و دھاندلی کا وقت گزر چکاہے۔ جمہور کے فیصلوں کو تسلیم کیا جائے اور عوام کے اس مطالبے پر سیاسی نظام کی تشکیل کی جائے جس کی بنیادپر انگریزوں اور ہندوئوں سے آزادی حاصل کی تھی۔ سینیٹر سرا ج الحق نے یوم سقوط ڈھاکا کے موقع پر خصوصی طور پر جماعت اسلامی بنگلا دیش کی قربانیوں کا ذکر کیا اور ان ہزاروں کارکنان کو خراج تحسین پیش کیا جنہوںنے نظریہ پاکستان کی محبت میںاپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔ انہوںنے کہاکہ پروفیسر غلام اعظم ؒ ، مطیع الرحمن نظامی ؒ اور دیگر شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔