اسلام آباد(صباح نیوز)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے پی آئی طیارہ حادثے پر حکومتی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔بلاول زرداری نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ عمران خان تو کہتے تھے کہ ریل کے حادثے پر ریل کے وزیر استعفا دیں جبکہ جہاز حادثے پر وزیر ہوا بازی کو ہٹا دینا چاہیے، اب وہ طیارہ حادثے کا الزام پائلٹ اور ائر ٹریفک کنٹرولر پر لگا رہے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حادثے کا شکار ہونے والے کو مورد الزام ٹھہرا کر قربانی کا بکرا بنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ پی آئی اے طیارہ حادثے کی آزادنہ تحقیقات چاہتے ہیں۔علاوہ ازیں ایک اور ٹویٹ میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کو ایک بار پھر چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) جیسے کسی ایک اسپتال کا نام بتا دے جو اس نے 9 برسوں میں بنایا ہو۔بلاول زرداری نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو چیلنج دیے ہوئے 72 گھنٹے گزرچکے ہیں، 72 گھنٹے گزرجانے کے باوجود میرا چیلنج پی ٹی آئی سے پورا نہ ہوسکا، میں انتظار کررہا ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جن اسپتالوں کو پی ٹی آئی سندھ سے چھیننے کی کوشش کررہی ہے، ان کی طرز کا کوئی ایک اسپتال ملک میں دکھادے۔یاد رہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی نے یہی چیلنج گذشتہ دنوں بھی دیا تھا جس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی رابطہ کار شہباز گِل جیکب آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال پہنچ گئے تھے۔شہباز گِل نے جیکب آباد کے اسپتال کی حالت کی نہ صرف ویڈیو بنائی بلکہ بلاول زرداری سے سوال بھی کیا کہ اسپتال کی حالت دیکھتے ہوئے آپ اپنا علاج یہاں کرائیں گے؟ جانوروں کے لیے بھی ایسا اسپتال نہیں ہوتا جیسا انسانوں کے لیے بنایا گیا ہے۔