حکومت کورونا ٹیسٹ اور علاج مفت کرے، ڈاکٹرزو طبی عملے کو بونس دیا جائے، سراج الحق

478
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کورونا وائرس کے شہید ہونے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹرحافظ مقصود علی کی رہا ئش گاہ پر ان کے خاندان سے تعزیت کے بعد دعا کر ر ہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جہاں ڈاکٹروں کو صحت کا تحفظ حاصل نہ ہو،وہاں مریضوں کا پرسان حال کیاہوگا۔ڈاکٹرز قوم کے محسن ہیں،شہدا اور ان کے خاندانوںکو سرکاری سطح پر پذیرائی ملنی چاہیے۔ وزیر اعظم کوکورونا فنڈ سے کم ازکم 5 بلین ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے مختص اور ڈاکٹروں کے لیے اضافی تنخواہ اور اسپیشل الائونس کا اعلان کرنا چاہیے۔سرکاری اسپتالوں میں جگہ نہیں تو حکومت کورونا کے مریضوں کا علاج پرائیویٹ اسپتالوں سے کرائے ۔عوام کوعلاج کی سہولیات مہیا کرناحکومت کی ذمے داری ہے۔لوگ اپنے بیماروں کولے کر کہاں جائیں ؟ حکومت کورونا ٹیسٹ مفت کرے اور پرائیویٹ لیبارٹریوں کو ٹیسٹ فیس اوراسپتالوں کو علاج کے اخراجات مہیا کرے ۔ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بجٹ میں صحت کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کرے ۔حکومت کے غیر سنجیدہ رویے نے کورونا کو پھیلنے کا موقع دیا ۔حکومت خود احتیاط نہیں کرتی اس لیے عوام بھی بے احتیاطی کررہے ہیں جس سے بیماری کو پھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ کورونا وبا میں استعمال ہونے والی ممکنہ ادویات بھی مارکیٹ سے غائب ہوگئی ہیں اور ایک انجکشن بلیک میں3 لاکھ روپے تک مل رہا ہے ۔ حکومتی انتظامات نامکمل اور ناکافی ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت پر عوام کا اعتماد بالکل ختم ہوکر رہ گیا ہے ۔ ڈاکٹرز ہمارے ہیرو ہیں ہم ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے حکومت کے منفی رویے کے باوجود اپنی قوم کی خدمت کی اور لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کرکام کرتے رہے۔کورونا ڈیوٹی کرنے والے عملے کو ڈبل تنخواہ دی جائے ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے منصورہ میں امیر لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہد اور پیماکے صدر ڈاکٹر محمد افضل سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے گزشتہ روز کورونا کا شکار ہوکر شہید ہونے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر حافظ مقصود علی کی رہائش گاہ پر ان کے خاندان سے تعزیت کی اور مرحوم کے لیے بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کنفیوژڈ حکومتی پالیسی کی وجہ سے کورونا میں اضافہ ہوا ہے ۔یہ امربھی قابل افسوس ہے کہ کورونا کے بارے میں اب بھی معاشرے میں شکوک و شبہات پھیلائے جارہے ہیں۔ اب تک ڈیڑھ درجن کے قریب نامور ڈاکٹرز کورونا کی وجہ سے شہید ہوچکے ہیں ۔ملک بھر میں سیکڑوں مرد و خواتین ڈاکٹرزاور پیر ا میڈیکل اسٹاف کورونا کا شکار ہوچکے ہیں ۔حکومت نے خود بھی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن واضح کرچکی ہے کہ کورونا سے وفات پانے والے کی میت سے کورونا نہیں پھیلتا مگر اس کے باوجود انتظامیہ لوگوں کو ان کے پیاروں کی میتیں دے رہی ہے نہ انہیں جنازہ پڑھنے دیا جاتا ہے ۔حکومت کے اس رویے سے لوگوں کے اندر نفرت پھیل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دوسری بیماریوں کے مریضوں کا علاج ہورہا ہے نہ انہیں اسپتالوں میں داخل کیا جارہا ہے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور ناقابل برداشت ہے ۔صرف کورونا وارڈ اور آئی سی یو میں پی پی ایز کی فراہمی کافی نہیں ،اسپتالوں کی ایمرجنسی سمیت تما م وارڈز اور عملے کو پی پی ایز کی فراہمی ضروری ہے ۔کئی شہروں کے اسپتالوں میں طبی عملہ تربیت یافتہ نہیں ڈاکٹرز کی تنظیموں کے ذریعے غیر تربیت یافتہ عملے کی جنگی بنیاد پر تربیت کی جائے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران ڈاکٹروں نے فرنٹ لائن فائٹرز کا کردار اد ا کیا مگر حکومت نے ڈاکٹرز کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کیا،یہی وجہ ہے کہ ملک کئی نامور ڈاکٹروںسے محروم ہوگیا ہے ۔حکومت ڈاکٹروں اور طبی عملے کو حفاظتی لباس (پی پی ایز) اور سامان مہیا کرنے میں ناکام رہی ۔انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعظم کورونا فنڈ سے کم ازکم 5 بلین ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے مختص کرتے تاکہ ڈاکٹرز بھرپور اعتماد کے ساتھ بیماروں کا علاج معالجہ کرسکتے ۔ حکومت کو ڈاکٹروں کے لیے اضافی تنخواہ اورا سپیشل الائونس کا اعلان کرنا چاہیے تھا ،مگر حکومت ڈاکٹروں کو تحفظ اور اعتماد دینے میں بھی ناکام رہی ۔ حکومت نے 12سو ارب روپے کے کورونا فنڈ کا اعلان کیا۔اس فنڈ کو صحت کی سہولتیں بہتر بنانے پر خرچ ہونا چاہیے تھامگر سرکاری اسپتالوں میں صحت کی سہولتوں میں اضافہ ہوا نہ ڈاکٹروں کو کچھ ملااور نہ ہی کورونا کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے خود اس وبا کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہارنے والے ڈاکٹروں کو کچھ دیا گیا۔