کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم اگر کام نہیں کر سکتے تو استعفا دے کر گھر جائیں ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔جمعہ کو سندھ اسمبلی میں وزیرا علیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ بلاول کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح کم ہے میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ ان کی تسلی کتنے فیصد پر ہوگی، ہم صرف اپنے لوگوں کی زندگی بچانا چاہتے ہیں، وفاق کے خلاف ہم نے کوئی سازش نہیں کی، اگرپی ٹی آئی کوخطرہ ہے تو پی ٹی آئی ہی سے ہے۔ پی پی چیئرمین کے بقول میں نے پہلے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مفاہمت کا ہاتھ ملایا لیکن اس کا غلط مطلب سمجھا گیا، کورونا وائرس میں سب سے زیادہ کام سندھ حکومت اور مراد علی شاہ نے کیا لیکن وفاقی وزرا ان پر الزام تراشی سے باز نہیں آئے، اب اگر وفاقی وزرا کی جانب سے تنقید کی گئی تو اس کا پورا جواب دیا جائے گا۔ بلاول نے کہا کہ ہمیں مل کر فیصلے کرناہیں اور ملک کی قیادت وزیراعظم کو کرنی ہے، صوبائی حکومت کا ایک سال کا ہیلتھ بجٹ ایک عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں، وزیراعظم الیکٹٹد ہویاسلیکٹڈ اس وقت معیشت کے لیے کام کرے،عمران خان وزیراعظم بنیں ورنہ گھرجائیں۔عمران خان کنٹینر سے اتریں اور ملک کے وزیراعظم بنیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ اب کنٹینر پر نہیں ہیں، اس وقت کوئی جنگ بھی نہیں کرنی پھرمدد کیوں نہیں کی جارہی ہے، وفاق دفاع اورقرضوں پر خرچ کرتا ہے۔وفاق کو ذمے داری لینا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ یوم مئی کورونا کے دوران شہید ہونے والے 9ڈاکٹرز کے نام کرتے ہیں،کیا یہ ممکن ہے کہ فرنٹ لائن سپاہیوں کوجنگ پر بھیجیں اوراسلحہ نہ دیں،طبی سہولتوں میں اضافے کے لیے وفاقی حکومت تیار نہیں،لیب بنانے میں مدد دی گئی اور نہ ہی وفاقی حکومت نے کٹس فراہم کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 90 فیصد کام صوبے نے اپنے وسائل سے کیا ہے،وفاقی حکومت اگر مدد نہیں کرسکتی تو ہمیں تنگ تو نہ کرے، اگرلاک ڈاؤن ختم کرتے ہیں تو مزید دباؤ آئے گا۔