لاہور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آٹے اور چینی کے بحران کی رپورٹ عوام کے سامنے لانا خوش آئند ہے ،ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ بحران پیدا کرنے والوں کو وزیر اعظم اپنے دائیں بائیں تلاش کریں۔اب حکومت کا فرض ہے کہ بلا امتیاز احتساب کرے اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کو کٹہرے میں لائے۔ حقیقی احتساب کے بغیر لوٹ کھسوٹ کے بازارکا لاک ڈائون نہیں ہوسکتا۔ منصورہ سے جاری اپنے بیان میں سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سبسڈی کے نام پر سرمایہ داروں وڈیروں اور جاگیرداروں میں قومی دولت بانٹنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے ،سبسڈی اور ناجائز منافع واپس لیکر مستحق لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔کورونا لاک ڈائون کے دوران غریبوں کو گزارہ الائونس اور راشن دینے کے اعلانات پر ابھی تک کوئی عمل نہیں ہوسکا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرے اور سبسڈی دے اور آٹے ،چینی ،گھی ،چاول اور دالوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ کی تین ماہ کی فیس حکومت ادا کرے۔طلبہ کیلیے انٹر نیٹ تین ماہ کیلیے مفت کیا جائے۔سود کا مکمل خاتمہ کردیا جائے ،رہائشی اور کمرشل ایکسائز ٹیکس ایک سال کیلیے ختم کیاجائے۔ سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کورونا ٹیسٹ فری کیا جائے اور نجی لیبارٹریز کو ٹیسٹ کے اخراجات حکومت ادا کرے۔فرنٹ لائن پر ذمہ داریاں ادا کرنے والے ڈاکٹر اور عملے کو محفوظ لباس اور معیاری سہولیات فراہم کی جائیں اور انہیں تین ماہ تک ڈبل تنخواہ دی جائے۔بجلی اور گیس کے ماہ مارچ کے بلوں میں دوہزار روپے کی سبسڈی دی جائے اور آئندہ چار ماہ کیلیے ان بلوں پر تمام ٹیکس ،لیویز اور ڈیوٹیز ختم کردیں۔انہوں نے کہا کہ ریلیف فنڈ کی تقسیم کے کام میں ٹائیگر فورس کی بجائے نادرا کے ڈیٹا اور موبائل کمپنیوں کے ساتھ مل کر خط غربت سے نیچے عوام کا ریکارڈ بنا کر امدادی رقم تقسیم کی جائے۔ سوشل سکیورٹی میں درج شدہ مزدوروں کو ان کے اداروں کے ذریعے ریلیف دیا جائے۔صوبوں میں رجسٹرڈ این جی اوز جو قومی سطح پر خیر کاکام کرتی رہی ہیں ،امدادی فنڈ ان کے ذریعے تقسیم کیا جائے۔محلوں کی سطح پر موجود مساجد اور زکواۃ کمیٹیوں کے ذریعے امدادی رقوم کی تقسیم کو زیادہ شفاف طریقے سے مستحقین تک پہنچایا جاسکتا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے جو امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرسکے اور سیاسی قیادت اور طبی ماہرین کی مشاورت اور چین کے کامیاب تجربے کو پیش نظر رکھتے ہوئے قومی پالیسی اور نیشنل ایکشن پلان بنایا جائے۔