پاکستان کشمیر سے غافل نہیں‘ تنازع کے ساتھ پانی کا مسئلہ جڑا ہے‘ شاہ محمود

195

اسلام آباد(صباح نیوز)وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر سے غافل نہیں، اس تنازع کے ساتھ پانی کامسئلہ بھی جڑا ہوا، غربت اسلام آباد میں دکھائی نہ دے گی،پاکستان کا اصل چہرہ دیہات میں گم ہے،زراعت کو ترجیح دے کرغربت سے باہر آسکتے ہیں، اگر کاشتکار کی جیب خالی ہے تو خزانہ خالی رہے گا،خزانہ بھرنا ہے تو وسائل کسانوں کی طرف منتقل کرنا ہونگے، کسان کاشتکار تو بدحال ہیں، حقائق تسلیم کیے بغیر حالات صحیح نہیں ہوسکتے ہیں، زراعت بیمار ہے ڈاکٹر کا کردار پارلیمنٹ ادا کرسکتی ہے ، سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر پارلیمان کسانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار ہے، مرکز اور صوبوں کے زرعی تحقیقاتی مراکز سے قوم کو کیا حاصل ہورہا ہے، تحقیقی مراکز ناکام ثابت ہوئے ہیں، جواب دہی ضروری ہے سی پیک کے فیز ٹو کے تحت زرعی ورکنگ گروپ بنے گا عام کسانوں کا کتنے زرعی قرضے ملتے ہیں منافقت کی انتہا ہے کہ قرضہ پر شرح سود کو منافع کہتے ہیں کسانوں کا 40فیصد منافع کوئی اور لے جاتا ہے وہ چوں بھی نہیں کرتا 17فی صد سود اداکرنے والے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پہلے زرعی قومی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر نے بھی خطاب کیا ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ زرعی مکالمہ آغاز ہے سب نے مل کر اسپیکر قومی اسمبلی کے ہاتھ مضبوط کرنے ہیں ، زراعت مضبوط ہوگی تو پاکستان خوشحال ہوگا ۔خوشی ہے کہ سفارشات کے لیے 8 نشستیں ہوئیں ۔وزیر خارجہ نے کہاکہ مرکز اور صوبوں کے زرعی تحقیقاتی مراکز سے قوم کو کیا حاصل ہورہا ہے، تحقیقی مراکز ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ زرعی ادارہ جاتی ناکامی ہے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سی پیک کے فیز ٹو کے تحت زرعی ورکنگ گروپ بنے گا۔ چین مدد کرسکتا ہے زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں چین سے مدد لے رہے ہیں ، پاک چین تجارتی عدم توازن کو دور کرنا چاہتے ہیں چین نے اس سے اتفاق کیا ہے بلکہ چین پاکستان سے چینی کی خریداری کے لیے بھی تیا رہے،ٹماٹر ، آلو ، چاول باہر جاسکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کی اہمیت سے غافل نہیں ہے تاہم کشمیر کے تنازع کے ساتھ پانی کا مسئلہ جڑا ہوا ہے پاکستان میں پانی فی کس 5ہزار لیٹر سے کم ہوکر 800رہ گیا ہے -اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے مشترکہ اعلامیہ پڑھا اور کہاکہ پارلیمنٹ کسانوں کے مفاد میں لابنگ کرے گا سفارشات پر عملدرآمد کے لیے پارلیمانی ورکنگ گروپ بنے گا، صوبائی اسمبلیوں سے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہو ںگے۔ صوبوں کی قائمہ کمیٹی زراعت سے رابطے کیے جائیں گے کیونکہ قومی شرح نمو میں زراعت نمایاں اضافہ کرسکتی ہے مگر ماضی میں اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔