حکومتی پالیسیاں جاری رہیں تو بھارت اسلام آباد پر قبضے کی دھمکی بھی دے سکتا ہے، سراج الحق

688
لاہور: امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق منصورہ میں یوتھ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم چاہیں نہ چاہیں اسلا م آباد سے روزانہ این آر او جاری ہورہے ہیں۔ حکمران پارٹیاں اللہ اور عوام کو نہیں پنڈی کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتی ہیں ۔ سابق و موجودہ حکمران پارٹیوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک ہی در کی فقیر ہیں۔ ان کے ظاہر ی اختلافات عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہیں۔ موجودہ حکومت کی یہی پالیسیاں رہیں تو کل کو بھارتی آرمی چیف مظفر آباد کے بجائے اسلام آباد پر قبضہ کی دھمکی بھی دے سکتاہے ۔ وزیراعظم کا قبر میں سکون کا بیان واعظ نہیں اپنی بے بسی کا اظہار ہے ۔ وزیراعظم قوم کو مایوس کر رہے ہیں اور کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ہوتے ہوئے کسی سکون اور آرام کی امید نہ رکھنا۔ ملک پر اصل حکومت نیپرا، اوگرا او رپیمرا کی ہے ۔ آنے والا وقت اسٹیٹس کو اور استحصالی نظام کی محافظ پارٹیوں کی شکست اور خوشحال اسلامی پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی فتح کا ہے۔ نوجوان ملک میں شاندار اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ بنیں گے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں لوئر دیر اور کوئٹہ کے جے آئی یوتھ کے ذمے داران کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم کا یہ بیان کہ پاکستان میں جیتے جی کسی کو سکون نہیں ملے گا اور اگر کوئی سکون اور آرام چاہتاہے تو اسے مر جاناچاہیے، انتہائی مایوسی کا اظہار ہے لگتاہے وزیراعظم نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں کہ وہ عوام کے امن و سکون کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔ انہوںنے کہاکہ اللہ کا نظام امن و سکون ، خوشحالی اور ترقی کاضامن ہے ۔ حکومت آئی ایم ایف اور استعماری قوتوں کی غلامی چھوڑ دے اور قرآن و سنت کے مطابق ملک کا نظام چلائے تو پاکستان امن و سکون اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتاہے لیکن حکمران اس غلامی سے نکلنے کو تیار نہیں۔ قرضوں کے نشے میں مبتلا حکمرانوں کو اس کے بغیر نیند نہیں آتی ۔ سابق حکومتوں نے ملک کو 31 ہزار ارب کا مقروض کیا تھا اور موجودہ حکمرانوں نے صرف 15 ماہ میں اسے 42 ہزار ارب تک پہنچادیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سندھ بلوچستان اور جنوبی پنجاب سمیت ہر جگہ مسائل ہی مسائل ہیں ۔ سندھ میں 70 سال سے اقتدار پر مسلط پارٹی ان مسائل کو حل نہیں کر سکی ۔ جمہوریت ہو یا آمریت، کراچی پر مسلط پارٹی ہمیشہ حکومت میں ہوتی ہے۔ ملک کے معاشی حب اور 70 فیصد ریونیو جنریٹ کرنے والے شہر میں تباہی اور بربادی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ جہاں درجنوں جہاز اور ہزاروں مزدور نظر آتے تھے، آج ویران پڑی ہے ۔ ہرطرف ہو کا عالم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسان خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود بھوکا سوتا ہے ، مزدور کی محنت کا پھل کارخانہ دار اور سرمایہ دار کھا رہے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ایوان کے اندر سابق اور موجودہ حکمران پارٹیاں ایک پیج پر آگئی ہیں، ایک چھتری تلے جمع ہونے والے ایک ہی پارٹی ہیں۔ ان کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی محض عوام کو دھوکا دینے کی کوشش ہے جس پر اب لوگوں کو یقین نہیں رہا ۔ بار بار اقتدار ملنے کے باوجود ان پارٹیوں نے عوام کو مایوس کیا ان کا اپنا کوئی وژن ہے نہ انہیں عوام کی پریشانیوں سے کوئی سروکار ہے ۔ ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ٹولے سے اب نجات کا وقت آگیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ان کی ڈوبتی ہوئی کشتی میں آخری کیل نوجوان ٹھونکیں گے ۔ جن نوجوانوں کو نوکریوں اور روزگار کے سہانے خواب دکھا کر ان کرپٹ اور جھوٹے حکمرانوں نے مایوس کیا ہے، وہی اس کے خاتمہ کا ذریعہ بنیں گے۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہمارے وسائل، سیاست ، معیشت ، تجارت اور تہذیب پر دشمن کا قبضہ ہے اور اسی کے پروردہ لوگ اقتدار کے ایوانوں پر مسلط ہیں۔ 72 سال سے قوم منزل کی تلاش میں ہے لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کے غلاموں نے قوم کو منزل سے محروم رکھاہے ۔ تعلیمی ، معاشی اور داخلہ و خارجہ پالیسیاں استعمار کی ڈکٹیشن پر بنائی جاتی ہیں۔ تعلیم، صحت اور انصاف کے اداروں میں امیر و غریب کی تقسیم گہری ہوچکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ تھانے اور پٹوار خانے کے زور پر غریبوں کا استیصال کیا جاتاہے۔ بزدل قیادت نے اسلام کی روشن تہذیب کے بجائے عریاں کلچر قوم پر مسلط کر رکھاہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے کشمیر کے مسئلہ کو سرد خانے میں دھکیل دیاہے۔ انہوںنے کہاکہ جنگ کی دھمکیاں دینے والے بھارتی جرنیل کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سومنات کو پاش پاش کرنے کی تاریخ دہرا سکتے ہیں۔