آرمی ایکٹ بل کی حمایت کا فیصلہ مشاورت سے کیا تھا، شہباز شریف

252

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)لندن میں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حامد کرزئی نوازشریف کی خیریت پوچھنے آئے تھے اور انہوں نے پاکستانی عوام کے لیے خیرسگالی کا پیغام دیا ہے۔آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے جب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تو اس وقت تو واویلا نہیں تھا۔ معاملہ عدالت میں آنے کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ پارلیمنٹ توسیع کے معاملے پر قانون سازی کرے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس طرح کی مثالیں موجود ہیں کہ مدت ملازمت میں توسیع دی گئی۔ ایسا نہیں ہوا کہ مشرف اور دیگر آمروں کی طرح جو خود کو ایکسٹینشن دیتے رہے، نوٹیفیکیشن سے متعلق عمران خان نے صرف غلطیاں نہیں کیں بلکہ بدنیتی بھی شامل تھی۔شہبازشریف نے کہا ہے کہ 2020ء ٹونٹی ٹونٹی کا میچ ہے۔ صحافی کے سوال ’’آپ کا نام وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر سامنے آرہا ہے ‘‘ کے جواب میں کہا کہ میرے ساتھ ایسا پچھلے 20 سال سے ہورہا ہے، پہلے کچھ ہوا؟ انہوں نے ایک اورسوال ’’اگلا سال الیکشن کا کہا جارہا ہے‘‘ کے جواب میں کہا کہ دیکھتے ہیں! 20 ٹونٹی کا میچ ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے اصل ایشوزسے پیچھے ہٹنا مناسب نہیں، اصل مسائل پاکستان کے عوام کی غربت ، بیروزگاری اور صحت کی فراہمی ہے۔ہم نے بجلی کا بحران حل کرکے ملک کی خدمت کی ہے۔ ملک میں بجلی بحران تھا لیکن نوازشریف نے 4 سال میں بجلی بحران حل کرکے تاریخی کام کیا۔ لوگ آج بھی نوازشریف کے منصوبوں کو یاد کرتے ہیں۔شہبازشریف نے کہا کہ ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس حکومت نے ڈیڑھ سالوں میں اتنے قرضے لیے کہ ریکارڈ توڑ دیا۔ پاکستان میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ ملک میں زراعت اور صنعت تباہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینا تھیں وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ملک اس سے زیادہ جھوٹا اور یوٹرن لینے والا وزیراعظم نہیں آیا۔عمران خان نے پاکستان کی معیشت تباہ کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئیے پاکستان کی زراعت کو ٹھیک کریں اور اپنی مصنوعات کی ایکسپورٹ کو بڑھائیں۔ اس سے قبل سابق وزیراعظم پاکستان میان نواز شریف سے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے لندن میں ملاقات کی۔ حامد کرزئی نے نواز شریف کی عیادت کی اور ان کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی۔ حامد کرزئی کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پہنچنے پر نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز نے ان کا استقبال کیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دوروں کے دوران نوازشریف نے میری بہترین میزبانی کی۔ مجھے آج اپنے بھائی نواز شریف اورشہبازشریف سے ملاقات کرکے بڑی خوشی ہوئی۔