کشمیر میں سانحہ جنم لے چکا‘ حکومت فریڈم کانوائے کا اعلان کرے‘ سراج الحق

255

لاہور( نمائندہ جسارت ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے حکمرانوں کومشورہ دیا ہے کہ فریڈم کا نوائے لے کر ایل او سی پر جائیں۔ فریڈم کانوائے اقوام متحدہ اوراو آئی سی کے رہنما ئوں سمیت انسانی حقوق کی ملکی و عالمی تنظیموں ، ریڈ کراس اور ہلال احمر کے نمائندوں پر مشتمل ہو۔ فریڈم کا نوائے میں خوراک،ادویات اور ضروریات زندگی کشمیریوں تک پہنچائی جائیں۔اب تک کی حکومتی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ حکمرانوں نے بے حمیتی کی چادر اوڑھ رکھی ہے ان چراغوں میں تیل نہیں ہے ،حکمران زندہ لاشیں ہیں۔ مودی چند مہینوں کے اندر کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دے گا اور پھر سقوط غرناطہ اور ڈھاکا کی طرح کشمیر بھی قصہ پارینہ بن جائے گا۔ حکمران کالی پٹیاں باندھ کر سلطان ٹیپو اور دفتر سے نکل کر آدھا گھنٹہ احتجاج کرکے محمود غزنوی بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔غزہ میں3 دن میں 40فلسطینی مسلمانوں کو شہید کردیا گیا ہے۔مگر دنیا کی طرح 57 مسلم ممالک کے حکمران بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ 14ماہ بعد بھی حکمران فیڈر چھوڑنے کو تیار نہیں۔ مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور وزرا عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر میں ہماری مائوں بہنوں بیٹیوں کی چیخیں آسمان سن رہا ہے مگر ہمارے حکمران بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں کرفیو کو 103 دن گزر چکے ہیں، حکمرانوں نے آج تک قوم کو کوئی لائحہ عمل اور روڈ میپ نہیں دیا۔اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر کے بڑے چرچے ہوئے لیکن اس کاکوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔دوسری طرف مودی لاکھوں ہندوئوں کو کشمیر میں زمین الاٹ کررہا ہے اور تاریخی مقامات کو ہندوئوں سے منسوب کیا جارہا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے دنوں میں کشمیر میں ہندو اکثریت میں اور مسلمان دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں نے پوری قوم کو ایک فریب میں مبتلا کررکھا ہے۔عوام پر غربت بھوک اور خوف مسلط ہے۔ظلم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔غریب کی کسی جگہ شنوائی نہیں۔عدالتوں کے دروازے سونے کی چابی سے کھلتے ہیں اس لیے غریب خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔رہزن رہبر بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 72سال گزر گئے ملک پر ابھی تک ظالمانہ استحصالی نظام اور انگریز کے ذہنی غلام مسلط ہیں۔مائیںبچے جنتی ہیں مگر ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ کاروں کی غلامی کے لیے۔سامراجی مالیاتی نظام اور سودی معیشت سے غریب کی غربت اور امیر کی دولت میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست ،جمہوریت ،پٹوارخانے اور تھانے سب کرپٹ مافیاز کے ہاتھو ں یرغمال ہیں۔جن عظیم مقاصد کے لیے اللہ تعالیٰ سے اسلامی نظام نافذ کرنے کے وعدے پر پاکستان حاصل کیا گیا تھا،اس سے انحراف پاکستان کو دولخت کیا اور آج باقی ماندہ ملک بھی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔