لفظ سلیکٹڈ ہی حذف کیوں؟

327

حبیب الرحمن

ہماری اسمبلیاں قانون سازی کے لیے نہیں دلوں کا بخار نکالنے کے لیے بنائی جاتی رہی ہیں جس کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ کسی زمانے میں گلی گلی کوچے کوچے مذہبی جلسے ہوا کرتے تھے جن میں میلادالنبی کے جلسے اور جلوس بہت ہی زیادہ نمایاں ہوا کرتے تھے۔ ہماری مسجدوں یا گلی کوچوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر جلسے اور جلوسوں کا انعقاد ہو اور ان میں اختلافی باتوں کو نہ چھیڑا جائے، ایسا نہ پہلے ممکن ہو سکا ہے نہ قیامت سے ایک دن پہلے تک ایسا ممکن ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ میں نے اپنے علاقے کے امام مسجد سے ہمت کرکے سوال کر ہی لیا کہ آپ کی پوری تقریر بہت پْر مغز اور پْر اثر ہوتی ہے اور خاص طور سے وہ تقاریر جن میں آپ (ص) کی سیرت بیان کی جارہی ہو اس کا تو جواب ہی نہیں ہوتا لیکن خواہ آپ ممبر رسول پر ہوں یا جلسہ عام میں تقریر کر رہے ہوں، آپؐ سے متعلق وہ عقائد جو اختلافی ہوں، آپ ان کو کیوں بیان کرتے ہیں۔ کیوں کہ میں ان کے مقتدیوں میں عرصہ دراز سے موجود دیکھا گیا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عقیدے کے لحاظ سے میں ان کے مکتبہ فکر سے تعلق نہیں رکھتا اس لیے وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے اور پھر خفا ہونے کے بجائے مجھ ہی سے سوال کر ڈالا کہ حضرت آپ مجھے یہ بتائیں کہ میری ساری تقریر میں پورا مجمع نہایت خاموشی کے ساتھ میری باتیں نہیں سن رہا ہوتا، میں نے کہا ایسا ہی ہے، کہنے لگے کہ جب میں اپنے عقیدے کے ساتھ دوسروں کے بخیہ ادھیڑ رہا ہوتا ہوں تو پورا پنڈال پْر جوش نہیں ہوجاتا؟، میں نے کہا ایسا ہی ہے۔ میری تائید سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ اختلافی باتیں ’’ہم‘‘ علما اس لیے بھی چھیڑنے پر مجبور ہیں۔ سچ پوچھیں تو ہم ممبر رسول پر ہوں یا جلسہ گاہ میں، ہمیں بلایا ہی اس لیے جاتا ہے ہم وہ باتیں لازماً بیان کریں گے جن کو حاضرین سننے کے لیے جمع ہوئے ہیں ورنہ مسجدوں اور جلسہ گاہوں میں ہمیں رکھنا یا بلایا جانا بھی چھوڑ دیا جائے۔ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ اتنا بڑا سچ وہ رواروی میں کہہ گئے یا واقعی انہیں کسی ہمدرد و غمگسار کی ضرورت تھی۔ یہی حال ہمارے سیاستدانوں کا ہے۔ اس میں قصور صرف سنانے والوں کا ہی نہیں، سننے والوں کا بھی ہے۔ اگر سیاست دان اپنے مخالفین کو ہدف تنقید بنانا ترک کردیں یا کوئی مصلحت ان کی راہ میں مانع آرہی ہو تو پورا ماحول تشکیک کا شکار ہو جاتا ہے اور ہر لب ایک ہی شک کا اظہار کر رہا ہوتا ہے کہ شاید اب ان کے درمیان کوئی ’’این آر او‘‘ ہونے والا ہے۔ یہ وہ طعنہ ہے جو حکومتی ہوں یا حزب اختلاف کے ارکان، دونوں پر جلتی پر تیل کا کام کر جاتا ہے اور پھر ایک ایک کے منہ سے ایسے ایسے موتی اور پھول جھڑنے لگتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔
اسمبلیاں اس لیے بنائی جاتی ہیں کہ وہ قوم و ملت کے لیے قانون سازی کریں۔ عوام کے رستے زخموں کی مرہم پٹی کریں اور ان کی فلاح و بہبود کے منصوبے بنائیں لیکن جب جب اسمبلیوں کا اجلاس بلایا جاتا ہے، وہاں مچھلی بازار کا سا ماحول گرم ہوجاتا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف دل کا بخار اتارا جارہا ہوتا ہے اور وہ کام جس کے لیے قوم کا سالانہ کھربوں روپے خرچ ہوتا ہے وہاں کان پڑی آواز تک کا سنائی دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ جو کچھ اسمبلیوں میں تماشے ہوتے ہیں وہ ہونا بند ہو جائیں تو پھر اسمبلیوں میں رہ ہی کیا جائے گا؟۔ وہ ٹی وی اینکرز کیا کریں گے جن کی ایسی ہی ’’ہر خبر پر نظر‘‘ ہوا کرتی ہے۔ وہ اخباری نمائندے کیا کریں گے جن کا مقصد ہی آپس کے اختلافات کو اُبھارنا اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے خلاف ابھارنا ہوتا ہے اور ان عوام کا کیا بنے گا جو اپنے اپنے لیڈروں کا ایک دوسرے کے خلاف مغلظات بکنا بھلا لگتا ہے۔ پوری دنیا کتنی سونی سونی ہوجائے گی اور اسمبلیوں میں مکھیاں بھنبھنانے لگیں گی۔ کون سی اسمبلی ایسی ہے جس میں ایک دوسرے سے دست و گریبان نہ ہوا جاتا ہے، لاتوں گھونسوں یہاں تک کہ کرسیوں کے آزادانہ استعمال پر پابندی رہی ہو۔ ایک دوسرے کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کو حذف کرنے کے احکامات جاری نہ کیے جاتے ہوں اور بعض اوقات پوری پوری تقریر اسمبلی کی کارروائی سے حذف کر دی جاتی ہو۔
چند روز سے اسمبلی میں بھی ایک شور شرابا دیکھنے میں آیا جب کہ اسمبلی کی موجودہ کارروائی کا اصل مقصد بجٹ تجاویز اور اس کی منظوری تھا۔ پوری کارروائی کے دوران شاید ہی کچھ وقت بجٹ کے لیے مختص کیا گیا ہو، باقی سارا وقت ایک دوسرے کے کپڑے اُتارنے میں ہی گزر جاتا ہے۔ وہ کون سی نیچ سی نیچ زبان ہے جس کا استعمال نہ کیا گیا ہو، وہ کون کون سے بیہودہ جملے ہیں جو ایک دوسرے پر نہ کسے گئے ہوں اور کون سی بازاری زبان ہے جس کا کھلے عام استعمال نہ کیا گیا ہو۔ وزیر اعظم کے لیے نالائق، نااہل، زانی، شرابی جیسے الفاظ استعمال کیے جارہے ہیں جس کے جواب میں گھر کی بہو بیٹیوں تک کی عزتیں نیلام کی جارہی ہیں۔ الزام تراشیاں، گالم گلوچ، مغلظات کا طوفان اور مچھلی بازار کے مناظر اپنے جگہ جس پر اسمبلی کے اسپیکر کو کسی بھی قسم کا نہ تو کوئی منفی اثر ہے اور نہ ہی کوئی اعتراض لیکن حیرت ہے کہ مخالفین کی جانب سے وزیر اعظم کو ’’سلیکٹڈ‘‘ کہنا اتنا برا کیوں لگا کہ نہ صرف اس لفظ کو کارروائی سے حذف کر دیا گیا بلکہ سختی کے ساتھ پابندی لگا دی گئی کہ کوئی فرد بھی ’’الیکٹڈ‘‘ کو ’’سلیکٹڈ‘‘ نہیں کہے گا۔
ساری تبرے بازیاں ایک جانب، لیکن صرف ’’سلیکٹڈ‘‘ کہہ دینا اتنا غیر پارلیمانی کیوں؟۔ کیا یہ بھی ایسی بات ہے جو عام سمجھ رکھنے والے کی عقل میں نہ آ سکے؟۔ کیا یہ اس بات کی جانب اشارہ نہیں کہ پاکستان کی پوری منتخب اسمبلیاں، بشمول سینیٹ، صدر اور وزرائے اعلیٰ کسی اور کے رحم و کرم پر ہیں اور ان کی جانب جانے والا ہر لفظ لغت ہی سے نکال باہر کیا جاسکتا ہے۔
اسمبلیوں کو چاہے الیکٹڈ کہا جائے یا سلیکٹڈ، وہ غیبی طاقتوں کے تسلط ہی میں رہی ہیں۔ پہلے مارشل لا میں کیا ہوا تھا؟، پھر شیخ مجیب کی اکثریت کے خلاف کیا ہوا تھا، پھر بھٹو کی حکومت کے خلاف کیا ہوا تھا، پھر پی پی پی، ن، پھر پی پی پی، پھر ن کے خلاف کیا ہوتا رہا تھا۔ پھر جونیجو کے خلاف کیا ہوا تھا، پھر زرداری کے دور میں کیا ہوتا رہا تھا، پھر نواز حکومت کے لیے کیا ہوا تھا۔ ان سارے ادوار پر غور کرتے جائیں تو ہر فرد اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ الیکٹڈ حکومتیں بھی ’’سلیکٹڈ‘‘ ہی رہی تھیں اور پاکستان میں جو بھی حکومت قائم ہوگی وہ خواہ الیکٹڈ ہی کیوں نہ ہو اُسے ’’سلیکٹڈ‘‘ ہی بن کر رہنا ہوگا ورنہ اس کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا جائے گا۔ جس ملک کی صورت حال کا یہ عالم ہو کہ پیغمبران کرام کی توہین اور صحابہ کرام کا مذاق اڑانا تو گناہ نہ سمجھا جائے لیکن ملک کے وزیر اعظم کو الیکٹڈ کے بجائے سلیکٹڈ کہہ دینا ممنوع ہو اس اسلامی ملک کا کیا انجام ہوگا یہ اللہ ہی بہترجانتا ہے۔