اب کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں

288

راشد منان

نہ یہ طنز ہے اور نہ ہی مذاق بلکہ حقیقت یہی ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ کھودا پہار نکلا چوہا کے مترادف رہا اور اس نے حکمران جماعت کو اپوزیشن پر مزید پھبتیاں کسنے کا موقع اور ان کے طرز حکمرانی کو دوام بخشنے کی قوت اور طاقت فراہم کی‘ حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس کا وہ خوف جو حکمرانوں کے ذہنوں پر سوار تھا اس غبارے سے بھی ہوا نکل گئی۔آل پارٹیز کانفرنس کا حکومت کے خلاف کوئی جارحانہ قدم کا نہ اُٹھانا ملک کے مظلوم و محکوم عوام پر ڈالی گئی مہنگائی کے بوجھ اور لادے گئے بے جا ٹیکسوں کی ادائیگی کو سہنے اور برداشت کرنے کا ایک اشارہ بھی ہے اور اس محاورے کے عین مطابق بھی کہ ’’جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا‘‘ بقول شخصے یہ آل پارٹیز کانفرنس حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے لیے نہ تھی چیئرمین سینیٹ کا تختہ اُلٹنے کے لیے تھی۔ اس لیے کہ شاید ملک میں آئے تمام بحرانوں کے ذمے دار وہ ہیں ڈالر کی اُونچی اڑان ’’نئے قرض لینے کی ضرورت‘‘ ملک ملک کشکول گدائی لیے پھرنے کا سبب خیرات مانگنے کی اولین وجہ اور بیڈ گورنس بھی انہیں کی وجہ سے ہے افراط زر اور شرح سود میں اضافہ کے آگے بند باندھنے میں وہ بُری طرح ناکام رہے ہیں‘ ٹیکس کا حدف پورا نہ کرنا اور ایکسپورٹ اور اسٹاک ایکسچینج کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے انہوں نے کوئی بہتر منصوبہ بندی نہیں کی غرض کہ ان کی وجہ ہی سے ملک میں معیشت کی زبوں حالی اور میثاق معیشت مذاق معیشت بنا۔ لہٰذا طے کیا گیا ان کو ہٹا دیا جائے ملک کی معیشت بحال ہو جائے گی۔ کسی لاک ڈاون اور دھرنے کے بغیر تمام سیاسی قیدی خصوصاً نواز شریف اور آصف زرداری جیلوں سے رہا ہو جائیں گے اور کسی حمزہ شہباز اور سعد رفیق پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائیگا اور حکمرانوں کو اپنے دفاع کے لیے خوشامد پرست وزیروں اور مشیرون کی مزید ضرورت نہیں پڑے گی فواد چودھری، شہباز گل، فردوس عاشق اعوانم صمصام بخاری اور فیاض الحسن چوہان بھی چین کی بانسری بجاتے ہوئے سجدہ ریز ہو جائیں گے کہ اے رب! اب معاف کر دے ان حکمرانوں نے ہمیں دیا دلایا تو کچھ نہیں ہاں ہماری دروغ گوئی کے باعث ہمارے بدی کے پلڑے کو وزن دار ضرور کیا اعمال کی فکر اس لیے نہیں کہ یہ تو پہلے ہی داغدار تھے۔
بات طویل ہوگئی آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ کا اتنا وزن بھی نہ تھا جس کے بوجھ سے بلی کی چوں نکلتی آخر حزب اختلاف کی جماعتیں اس انتظار میں کیوں ہیں کہ جب عوام نکلیں گے تو ہم ان کی قیادت کریں گے حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ عوام نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہی کو منتخب کیا تھا مگر بد قسمتی سے ان کا مینڈیٹ چرایا گیا اور ان پر سلیکٹڈ لوگوں کو مسلط کر دیا گیا حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کا یہ بیانیہ اسمبلی کے اندر اور باہر ہر جگہ بطور ریکارڈ موجود ہے تو اب انہیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ان کے حق میں عوام الناس کی یہ پزیرائی ان سے اس بات کی متقاضی ہے کہ اس بار بغاوت کا علم وہ خود ہی سنبھالیں اور ان کی نمائندگی بھرپور طریقے سے کریں ان کے پاس تمام قانونی طریقے راستے اور رہنمائی موجود ہے جبکہ عوام کو یہ میسر نہیں۔
آل پارٹیز کانفرنس کے عین دوران میں نے اپنی چند تجاویز حزب اختلاف کے رہنمائوں کو ٹویٹ کی تھیں اور محترم اویس نورانی صاحب کی کال خوش قسمتی سے مل جانے کی صورت میں انہیں زبانی گوش گزار بھی کی تھی جو درج زیل ہیں۔
اسلام آباد لاک ڈاون کے ساتھ بجٹ منظوری والے دن اسمبلی لاک ڈاون کریں کوئی اندر نہ جائے۔ وزیر اعظم کو اسمبلی میں نہ آنے دیا جائے۔ ارکان دروازوں پر دھرنا دیں۔
پی پی والے سندھ میں گورنر ہائوس کا گھیرائو اور نواز والے اسپیکر پنجاب اسمبلی کو گھر سے باہر نہ نکلنے دیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں جب تک جمہور اور جمہوریت کا راگ الاپتی رہیں گی اور آئینی اور قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے جمہوری احتجاج کا طریقہ جس میں وزیر اعظم اسپیکر اور اسمبلی کا گھیرائو صدارتی محل کی طرف پرامن مارچ شامل ہے نہیں اپنائیں گی حکومت کے لیے چین ہی چین اور امن ہی امن ہے اور اس میں کوئی قباحت اس لیے بھی نہیں کہ ملک کے موجودہ وزیر اعظم اور ان کی فوج حزب اختلاف کی جماعتوں کو کنٹینر اور کھانا وغیرہ فراہم کرنے کی پیشکش ایک بار نہیں کئی بار کرچکی ہے اور ایوان بالا اور زیریں دونوں میں ان کی یہ پیشکش بطور ریکارڈ موجود ہے۔
جماعت اسلامی نے اچھا کیا جو اس اے پی سی میں شریک نہ ہوئی مگر جماعت اسلامی بھی ملک کی گرتی معیشت مہنگائی اور موجودہ حکومت کی نیتوں کی نہیں ان کی نااہلی کی بات کرتی ہے جماعت اسلامی کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ جلسے جلوس ریلیوں کے علاوہ بھی کوئی ٹھوس کام کرے ملک بھر میں موجود دانشور ماہر معاشیات سیاسی تجزیہ کار علماء داخلی اور سیاسی امور کے ماہرین اور قانون دانوں سابقہ وزراء اور مشیران خزانہ چھوٹے بڑے سرمایہ کار اور تاجروں کا ایک ایسا طویل دورانیہ کا ورکشاپ منعقد کرے جس میں ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے پر سیر حاصل بحث کی جائے اور ماہرین کی ٹیم متفقہ طور پر ایک نیا بجٹ متبادل کے طور پر پیش کرے جس کے باعث اڑتے ڈالر اپنے شجر پر واپس اور ملکی معیشت کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے جماعت کے اکابرین اور قیادت کے لیے یہ مناسب وقت ہے کہ آگے بڑھ کر زمام کار خود پکڑ لیں۔