عدم اعتماد کی تحریک اور سیاسی تضادات

1059

جلال نُورزئی

ملکی سیاست ہیجانی اور بحرانی کیفیت میں ہے۔ جس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا ثناء اللہ کو حیرت انگیز الزام کے تحت حراست میں لیا جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وفاقی حکومت فی الواقع ہوش و خرد کھو چکی ہے۔ اس صورتحال میں عوام کو نفسیاتی اور اعصابی تنائو میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک پر متفق ہیں۔ جے یو آئی ف کی 26 جون کی کل جماعتی کانفرنس اس ضمن میں اہم بیٹھک تھی۔ یقینا اگر حزب اختلاف کی جماعتیں سڑکوں پر نکل آتی ہیں تو سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو گا۔ امکان ہے کہ وفاقی حکومت مشکل میں پھنس جائے گی۔ جے یو آئی ف اسلام آباد دھرنے کی تیاریوں میں ہے۔ جماعت اسلامی مہنگائی اور بدامنی کے سلوگن کے ساتھ پہلے ہی سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ وفاقی حکومت بازیچہ اطفال بنی ہوئی ہے جو پہ بہ پہ خود کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز پس وپیش نہ ہوں تو کب کا احتجاج سڑکوں پر ہو رہا ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ 9 جنوری 2018 ء اس درو بست کا نقطہ آغاز تھا جب بلوچستان میں نواز لیگ، پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی کی مخلوط حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی۔ جہاں اسمبلی اجلاس سے قبل ہی نواب ثناء اللہ زہری مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے۔ ن لیگ کے اراکین اسمبلی کی اکثریت نے آنکھیں پھیر لیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری مقتدرہ کی بچھائی بساط کے اہم کھلاڑی تھے۔ جمعیت علمائے اسلام ف، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اس بساط پر کھیلنے میں شامل تھیں۔ وفاداریاں تبدیل ہوئیں اور ضمیر فروخت ہوئے۔ عبدالقدوس بزنجو جیسے غیر موزوں شخص صوبے کے وزیر اعلیٰ بنائے گئے۔ بلوچستان اسمبلی نوازشوں اور اللوں تللوں کا مرکز بن گئی۔ گویا دستوری استحقاق و نکات کے ذریعے انتہائی غلط روایت رکھی گئی۔ جمہوریت کی روح و بنیادوں کو ضعف پہنچا۔ یقینا دلیل یہی تھی کہ ایسا کرنا ان کا دستوری حق ہے۔ یہ سلسلہ تین مارچ 2018کے سینیٹ انتخابات تک چلا۔ آصف علی زرداری کی ہدایت پر قیوم سومرو فریضہ کی ادائیگی کے لیے کوئٹہ آکر بیٹھ گئے تھے۔ بھانت بھانت کے آزاد امیدوار سامنے آگئے۔ چناں چہ دولت کی ریل پیل کی بنیاد پر انتخابات ہوئے۔ سینیٹ میں نواز لیگ کا بلوچستان سے صفایا کر دیا گیا۔ اس سیاسی ہنر مندی کا اظہار آصف علی زرداری اور عدم اعتماد کی تحریک لانے والے لوگ فخریہ کرتے۔
سینیٹ انتخاب میں ہار نے والے دوسرے سرکاری ذرائع سے نواز ے گئے۔ رضا ربانی کو نظر انداز کر کے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ بنائے گئے۔ سنجرانی بھی بلوچستان سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں میں سے ہیں۔ اس کامیابی پر آصف علی زرداری اور اس کھیل کے دوسرے کردار خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے۔ یعنی بلوچستان کو بدنما سیاسی میدان بنانے کا تب کسی کو احسا س نہ ہوا، نہ کسی کا ضمیر جاگا۔ اب جب جے یو آئی ف کی آل پارٹیز کانفرنس سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی بات نکلی تو ان کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی۔ حیرت انگیز تضاد ہے فرماتے ہیں کہ چیئر مین سینیٹ کا ہٹایا جانا غیر فطری تبدیلی ہو گی۔ جس سے وفاق پاکستان کو نقصان پہنچے گا اور یہ تبدیلی بلوچستان کے حق میں نہیں۔ حیرت ہے کہ ان حضرات کو بلوچستان کے ساتھ ہونے والی زیادتی سرے سے یاد ہی نہیں جس کا یہ لوگ خود حصہ بنے تھے۔ جام کمال جیسا دیندارا ور بھلا آدمی بھی سنجرانی بچائو مہم پر نکل پڑا ہے۔ آصف علی زرداری اور بلوچستان کے سیاسی لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ جام کمال کہتے ہیں کہ بلوچستان کی نمائندگی کو متنازع بنایا جا رہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ کہتے ہیں کہ اس تبدیلی سے بلوچستان کے اندر احساس محرومی میں اضافہ ہو گا کہ بلوچستان کی وفاق میں نمائندگی کو عزیت دی جائے۔ گویا بادشاہ گروں نے بھی صوبے کے احساس محرومی کی طرح ڈالی۔ کیا تشریح ہو اس نرالی سیاست اور انداز بیان کی کہ جنہوں نے بلوچستان کے اندر عدم اعتماد کے ذریعے اور سینیٹ انتخابات میں اخلاقیات، سیاسی اور دستوری روایات کا جامہ چاک کیا، وہی اب صوبے کی نمائندگی کو عزیت دینے کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ المیہ بھی نیا نہیں ہے، یعنی ضرورت پڑنے پر صوبے کے احساس محرومی کا ڈھول پیٹا جاتا ہے۔ صادق سنجرانی بلوچستان کے نمائندے ہوتے تو ان کی کامیابی کے لیے دیدہ و نادیدہ زمین ہموار نہ کرتے۔ اور ضمیر کی منڈی نہ لگتی۔
سردار اختر مینگل کو چاہیے کہ وہ چُھپن چھپائی کے بجائے کسی ایک راہ کا تعین کریں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سیاست کی پچ پر عمدہ کھیل رہے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان پر انگلیاں اُٹھنی شرو ع ہو گئی ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے بلوچستان میں منتخب حکومت کے خلاف سازش و گرانے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ جبکہ دو جولائی کو بزرگ سیاستدان لیاقت بلوچ نے اس صورتحال کی بہت جامع تفہیم کی ہے کہ ’’چیئر مین سینیٹ کے انتخاب سے پہلے سیاست میں ریاستی مداخلت بلوچستان سے شروع ہوئی اور سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو اکٹھا کر کے ریاستی طاقت کے عروج کا مظاہرہ ہوا‘‘۔ لیاقت بلوچ نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ ’’کیا پیپلز پارٹی ماضی کے سیاسی گناہ کا ازالہ کرے گی‘‘۔ یہی سوال جے یو آئی ف، سردار اختر مینگل اور عوامی نیشنل پارٹی سے بھی ہے؟؟۔