تفہیم الاحکام

462

مفتی مصباح اللہ صابر

سوال: نماز جمعہ کے بعد جو دو سنتیں ادا کی جاتی ہیں۔ ان کی تفصیل اور خصوصا چار سنتوں کا حوالہ احادیث سے درکار ہے۔
جواب: چار اور دو رکعات دونوں احادیث سے ثابت ہیں، اس باب میں احناف کا قول یہ ہے کہ چھ رکعات ادا کی جائیں۔ جس سے متعلق اَحادیث درج ذیل ہیں۔
1۔ابن عمر کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ مکہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کی دو رکعت ادا کرتے پھر چار رکعات ادا کرتے اور جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھتے اور گھر جاکر دو رکعت پڑھتے، مسجد میں کچھ نہ پڑھتے۔ اُن سے پوچھا گیا تو فرمایا: رسول اللہؐ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (سنن ابوداؤد)
2۔آپؐ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نمازِ جمعہ ادا کرے تو اس کے بعد چار رکعات اَدا کرے۔ (صحیح مسلم)
3۔عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: رسولؐ جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ (سنن نسائی)
سوال: کن مواقع پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی اجازت ہے؟
جواب: جب تک قیام پر قدرت ہو بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں، اور سجدے پر قدرت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے، جو حضرات قیام وسجدہ پر قدرت نہیں رکھتے ہیں ان کو اول حکم بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ہے، کرسی پر نماز پڑھنا درست نہیں، اگر قیام پر قدرت ہو اور سجدے پر قدرت نہ ہو تو قیام ساقط ہوجاتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کرسی پر نماز پڑھنا جائز ہوجاتا ہے، بلکہ قیام اس وجہ سے ساقط ہوتا کہ اصل مقصود نماز میں سجدہ ہے اور قیام ورکوع اس کے لیے وسیلہ ہے۔
سوال: حج کے بعد عزیز واقارب کو کھانے کی دعوت دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے، جسے بعض لوگ حج ولیمہ کہتے ہیں۔
جواب:عزیز واقارب کو کھانے پر جمع کرنا اور ان کے ساتھ شریک ہونا مہمان داری اور اچھے اخلاق کا اظہار ہے لیکن اسے کسی دینی عبادت کے ساتھ خاص کرنا اور ضروری اور باعث اجر سمجھنا بدعت ہے۔ اس طرح کے کھانے کی دعوت کو ولیمہ حج کا نام دینا احکام حج میں کسی نئے حکم کو شامل کرنے کے مترادف ہے کیونکہ قرآن وسنت میں کہیں بھی ایسا حکم موجود نہیں ہے یہ خالصتاً کسی ایسے شخص کا ذہنی اختراع معلوم ہوتا ہے جو احکامات شرعیہ سے ناواقف اور اس طرح کے کسی جہل پر انتہائی جری بھی ہے۔
سوال:کیا غیر محرم مردوں کے سامنے سر کھولنے کی اجازت ہے؟
جواب: غیرمحرم مردں کے سامنے عورت کے لیے اپنے سر کو ڈھانپنا فرض ہے البتہ محرم مردوں کے سامنے فقہائے کرام نے سر کھولنے کی اجازت دی ہے لیکن بغیر کسی وجہ کے سر کھلے رکھنا اچھا نہیں ہے، حیا کا تقاضا یہ ہے کہ عورت محرم کے سامنے بھی سر ڈھانپ کر رہے۔ اسی طرح اپنے شوہر کے سامنے عورت کا دوپٹے کے بغیر رہنا اگرچہ جائز ہے لیکن بلا ضرورت ہروقت سر کھول ہی کر رہنا شوہر کے ادب واحترام کے خلاف ہے۔ (المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ/ کتاب الحظر والإباحۃ، فصل فی النظر والمسّ)
سوال:نکاح اور رخصتی میں کتنا وقفہ دیا جاسکتا ہے؟
جواب: نکاح اور رخصتی کے درمیان وقفے کی شرعاً کوئی تحدید نہیں ہے، البتہ اگر عذر نہ ہو تو رخصتی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، عذر کے وقت مناسب تاخیر کرسکتے ہیں، مثلاً لڑکی چھوٹی ہو تو کچھ وقت رخصتی میں توقف کیا جاسکتا ہے لیکن بلاعذر ِشرعی رخصتی میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔
نکاح کے بعد شرعی اعتبار سے لڑکے کے لیے مکمل آزادی مل جاتی ہے کہ وہ لڑکی سے بات کرے یا خلوت کرے، معاشرے میں رخصتی سے قبل اس کو معیوب سمجھا جاتا ہے مگر شرعی اعتبار سے اس کی اجازت ہے، مشاہدہ اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس معاملے میں جبر اخلاقی فساد کو جنم دیتا ہے لہذا اس طرح کے کسی بھی اخلاقی فساد سے بچنے کے لیے بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔